اسلام آباد/خوست: پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلام خان سرحدی علاقے میں جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں دونوں جانب سے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جھڑپیں پاکستان کے غلام خان سیکٹر اور افغانستان کے صوبہ خوست کے سرحدی علاقوں میں پیش آئیں، جہاں کچھ وقت تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم تاحال کسی بھی جانب سے ہلاکتوں یا زخمیوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال اب قابو میں آ چکی ہے اور فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے، جبکہ سرحدی علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات مکمل ہوئے تھے، جن میں سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور کشیدگی کم کرنے کے امور پر بات چیت کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بھی متوقع ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، اس لیے فوری سفارتی اور عسکری رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
دیکھئیے:کابل کے زیرِ اثر رپورٹنگ: اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ زمینی حقائق مسخ کرنے کی دانستہ کوشش قرار