حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

February 1, 2026

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت کے ذریعے عالمی کرکٹ سے وابستگی برقرار رکھے گا، مگر ایسے کسی میچ کا حصہ نہیں بنے گا جہاں قومی وقار، مساوات اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو مجروح کیا جائے۔

February 1, 2026

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نیپا وائرس میں اموات کی شرح 70 فیصد ہے، گلا سڑا اور خراب پھل کھانے سے نیپا وائرس پھیل سکتا ہے، نیپا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔

February 1, 2026

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد کی شناخت جبار ولد عبدالعلی کے نام سے ہوئی ہے، جو افغان شہری اور ٹی ٹی پی کا سرگرم رکن ہے۔ دہشت گرد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ غیر قانونی طور پر افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کر رہا تھا۔

February 1, 2026

سرحدی بندشوں اور تجارتی رکاوٹوں کو ’’ناجائز دباؤ‘‘ قرار دینا بھی اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات طالبان کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے نہ لینے کا براہ راست نتیجہ ہیں، نہ کہ سیاسی دباؤ کی کوئی سازش۔

February 1, 2026

تاریخی حقائق بھی اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سرداروں کی قیادت میں بغاوتیں اور مسلح مزاحمت 1950، 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بھی ہوئیں، اس وقت نہ سی پیک تھا اور نہ ہی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ۔ اس دور میں وسائل کی کوئی ایسی لوٹ مار موجود نہیں تھی جسے عوامی محرومی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا سکے۔

February 1, 2026

دہشت گردوں کی واضح حمایت کے کیس کے باوجود ایمان مزاری کی حمایت پر پاکستانی حکام نے یورپی یونین کو آڑے ہاتھوں لے لیا

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ڈیجیٹل پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گرد بیانیے کو فروغ دینے پر دی گئیں، جبکہ قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق بھی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق اس قانونی عمل کو جبر یا اظہارِ رائے کی پابندی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ یہ ملکی قانون کا نفاذ ہے۔
دہشت گردوں کی واضح حمایت کے کیس کے باوجود ایمان مزاری کی حمایت پر پاکستانی حکام نے یورپی یونین کو آڑے ہاتھوں لے لیا

حکام نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آزادیِ اظہار دہشت گردی کی حمایت، تشدد کی ترویج یا بدامنی پر اکسانے کا تحفظ فراہم نہیں کرتی، اور سیاسی اختلاف اور پرتشدد بیانیے کے درمیان واضح فرق کرنا ناگزیر ہے۔

February 1, 2026

پاکستانی حکام نے یورپی ممالک اور اداروں کی جانب سے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی کھلی حمایت پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں افراد کو پاکستان کے ملکی قوانین کے تحت اُن سرگرمیوں پر سزا سنائی گئی ہے جو کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک تھیں۔ بی ایل اے کو پاکستان، امریکا اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ڈیجیٹل پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گرد بیانیے کو فروغ دینے پر دی گئیں، جبکہ قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق بھی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق اس قانونی عمل کو جبر یا اظہارِ رائے کی پابندی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ یہ ملکی قانون کا نفاذ ہے۔

بی ایل اے: علیحدگی پسند نہیں، دہشت گرد تنظیم

سرکاری حکام نے واضح کیا کہ بی ایل اے کو علیحدگی پسند تحریک کہنا گمراہ کن ہے۔ ایک حکومتی ترجمان کے مطابق،
“علیحدگی پسندی سیاسی مکالمے سے جڑی ہوتی ہے، جبکہ دہشت گردی کی پہچان عام شہریوں پر تشدد ہے۔”

حکام نے نشاندہی کی کہ بی ایل اے متعدد خودکش حملوں، شہریوں اور انفراسٹرکچر پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، جبکہ ایمان مزاری مسلسل اس تنظیم کے افراد کو ریاستی مظالم کا شکار بنا کر پیش کرتی رہی ہیں۔

پاکستانی حکام نے خبردار کیا کہ یورپی میڈیا اور اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو “علیحدگی پسند” کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقائق کو مسخ کرتا ہے بلکہ دہشت گردی کو معمول پر لانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بین الاقوامی قانون یا انسانی ہمدردی کا اصول عام شہریوں پر حملوں کو سیاسی جدوجہد قرار نہیں دیتا، اور صحافتی ساکھ کا دارومدار درست اصطلاحات اور حقائق پر ہے۔

شہری حقوق اور سلامتی پر اثرات

حکام نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کا احترام صرف مخصوص افراد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ بلوچستان کے عام اور بے گناہ شہریوں کے حقوق بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ حکومت کے مطابق بی ایل اے کی مسلسل کارروائیاں صوبے میں عام شہریوں، مزدوروں، بچوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے بیانیے جو بی ایل اے کے کردار کو نرم کرکے پیش کریں، متاثرین کے ساتھ ناانصافی اور احتساب کے عمل میں رکاوٹ ہیں۔

ایک سرکاری ترجمان نے کہا،
“یورپی حلقوں کی جانب سے ایسی شخصیت کی حمایت، جو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہو، جبکہ عام بلوچ شہریوں کی تکالیف کو نظر انداز کیا جائے، نہایت تشویشناک ہے۔”

حکام نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آزادیِ اظہار دہشت گردی کی حمایت، تشدد کی ترویج یا بدامنی پر اکسانے کا تحفظ فراہم نہیں کرتی، اور سیاسی اختلاف اور پرتشدد بیانیے کے درمیان واضح فرق کرنا ناگزیر ہے۔

دیکھیے: بلوچستان میں بی ایل اے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی، خاتون کو اغوا کر لیا

متعلقہ مضامین

حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

February 1, 2026

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت کے ذریعے عالمی کرکٹ سے وابستگی برقرار رکھے گا، مگر ایسے کسی میچ کا حصہ نہیں بنے گا جہاں قومی وقار، مساوات اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو مجروح کیا جائے۔

February 1, 2026

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نیپا وائرس میں اموات کی شرح 70 فیصد ہے، گلا سڑا اور خراب پھل کھانے سے نیپا وائرس پھیل سکتا ہے، نیپا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔

February 1, 2026

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد کی شناخت جبار ولد عبدالعلی کے نام سے ہوئی ہے، جو افغان شہری اور ٹی ٹی پی کا سرگرم رکن ہے۔ دہشت گرد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ غیر قانونی طور پر افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کر رہا تھا۔

February 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *