پاکستان نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر بن گویر کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی شدید مذمت کی ہے۔ قابض افواج کے تحفظ میں آبادکاروں کے ساتھ مل کر قبلہ اول پر دھاوا بولا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ قدم بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ القدس شریف کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مقامات کی خودمختاری
پاکستان نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ اسرائیل کو مشرقی یروشلم پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔ وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مکمل باطل ہے۔
اس قسم کی بار بار دراندازی سے دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ یہ اشتعال انگیزی خطے میں مزید تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہے۔
عالمی برادری سے مطالبہ
پاکستان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں۔ اسرائیل کو عالمی قوانین اور قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
پاکستان نے فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔