کولمبو میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جدید مہارت سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے

February 16, 2026

بنوں میں تھانہ میریان کے سامنے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد شہید جبکہ 16 زخمی ہو گئے ہیں، پولیس کی مزید نفری جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی

February 16, 2026

کراچی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی نے چکرا گوٹھ میں کاروائی کرتے ہوئے ‘فتنہ الہندوستان’ کے 3 مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کر لیا ہے

February 16, 2026

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر ہو گئی ہے

February 16, 2026

سی آئی ایس ایس اے جے کے اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس تعاون کا مقصد علاقائی سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جوہری سیاست پر باخبر مکالمے کو فروغ دینا ہے

February 16, 2026

پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے بانی رکن کی درخواست؛ سڑکوں اور موٹرویز سے تمام رکاوٹیں فوری ہٹانے اور راستے کھولنے کے لیے عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا کر دی

February 16, 2026

پاکستانی کرکٹ کا بحران: محض شکست نہیں، بلکہ نظام کا زوال

کولمبو میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جدید مہارت سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے
کولمبو میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جدید مہارت سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے

شعیب اختر کی حالیہ تنقید دراصل اس انتظامی خلاء کی عکاسی کرتی ہے جو پی سی بی کے ایوانوں میں برسوں سے موجود ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس کے سربراہ کی پیشہ ورانہ بصیرت سے جڑی ہوتی ہے

February 16, 2026

گزشتہ روز کولمبو کے میدان میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں 61 رنز سے عبرتناک شکست محض ایک میچ کا ہارنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس ‘خام خیالی’ کے ٹوٹنے کا لمحہ ہے جس میں ہمیں برسوں سے مبتلا رکھا گیا تھا۔ 176 رنز کے ایک تعاقب پذیر ہدف کے سامنے پوری ٹیم کا 114 رنز پر ڈھیر ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری کرکٹ نفسیاتی اور انتظامی طور پر بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے۔ اس شکست کو محض ایک “برا دن” قرار دے کر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اس گہری بیماری کی علامت سمجھتا ہے جس نے ہمارے کھیلوں کے ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔

شعیب اختر کی حالیہ تنقید دراصل اس انتظامی خلاء کی عکاسی کرتی ہے جو پی سی بی کے ایوانوں میں برسوں سے موجود ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس کے سربراہ کی پیشہ ورانہ بصیرت سے جڑی ہوتی ہے۔ جب کرکٹ بورڈ کی سربراہی ایسے افراد کے سپرد کر دی جائے جن کا کھیل سے تعلق محض تماشائی’ کا ہو، تو پالیسیاں دور اندیشی کے بجائے وقتی واہ واہ اور سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر بنتی ہیں۔ شعیب اختر کا یہ سوال نہایت جائز ہے کہ کیا ہم کسی نیورو سرجن کی جگہ کسی بینکر کو بٹھا کر کامیاب آپریشن کی توقع کر سکتے ہیں؟ جب تک کرکٹ بورڈ میں پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کو معیار بنایا جائے گا، میدانِ عمل میں نتائج اسی طرح ذلت آمیز رہیں گے۔

جدید کرکٹ بمقابلہ فرسودہ ذہنیت
عمران خان کے دور میں ‘ٹیمپرامنٹ’ ہی سب کچھ تھا، لیکن آج کی ٹی 20 کرکٹ ایک بے رحم ‘سائنس’ بن چکی ہے۔ ہم آج بھی اس وہم میں جی رہے ہیں کہ ہمارے ‘سپر اسٹارز’ اپنی پرانی تکنیک اور سست بیٹنگ سے میچ جتوا دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید کرکٹ میں 120 کے اسٹرائیک ریٹ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں دنیا بھر کی ٹیمیں پہلی گیند سے ‘پاور ہٹنگ’ اور جارحانہ اسکلز کا مظاہرہ کرتی ہیں، وہاں ہمارے نام نہاد ‘کنگز’ پاور پلے میں اپنی وکٹیں بچانے اور ذاتی اوسط بہتر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ‘پھٹہ پچز’ کے ہیرو بین الاقوامی معیار کی تیز باؤلنگ اور تیکھے اسپن کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت اس نظام میں ہوئی ہے جہاں معیار سے زیادہ ‘نام’ کو اہمیت دی جاتی ہے۔

میرٹ کا قتلِ عام
اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ قومی ٹیم کا انتخاب اب کارکردگی کے بجائے ‘لابنگ’ کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ جب نائب کپتانی اور ٹیم میں شمولیت کا معیار سیاسی اثر و رسوخ بن جائے تو کھلاڑی میں وہ ‘جذبہ’ ختم ہو جاتا ہے جو اسے جیتنے کے لیے ضرورت ہوتا ہے۔ خواجہ نافع اور سلمان مرزا جیسے نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو بینچ پر بٹھا کر عثمان نواز جیسے غیر فعال کھلاڑیوں کو مسلسل موقع دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سلیکشن کمیٹی آزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے مخصوص گروہوں کے دباؤ میں ہے۔

پاکستان کرکٹ اس وقت اس مقام پر کھڑی ہے جہاں محض کپتان بدلنے یا کوچ کی چھٹی کر دینے سے حالات درست نہیں ہوں گے۔ ہمیں ایک ایسی ‘میجر سرجری’ کی ضرورت ہے جس کا آغاز بورڈ کے سربراہ سے ہو اور نچلی سطح تک پہنچے۔ ہمیں ایسے ‘ستاروں’ کی ضرورت نہیں جو صرف کمزور ٹیموں کے خلاف سنچریاں بنا کر ریکارڈز کے انبار لگائیں، بلکہ ہمیں ایسے سپاہیوں کی ضرورت ہے جو دباؤ میں چٹان بن جائیں۔

اگر آج ہم نے اس انتظامی جاہلیت اور اقربا پروری کا خاتمہ نہ کیا تو یاد رکھیے کہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ ہاکی کے بعد کرکٹ بھی ماضی کا قصہ بن جائے گی اور ہم صرف اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹیموں کے استقبال اور رخصت کی خبریں ہی پڑھتے رہ جائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ‘ناموں’ کی پرستش چھوڑی جائے اور ‘کام’ کو ترجیح دی جائے۔

دیکھیے: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا دنگل آج، پاکستان اور بھارت شام ساڑھے چھ بجے مدمقابل ہوں گے

متعلقہ مضامین

بنوں میں تھانہ میریان کے سامنے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد شہید جبکہ 16 زخمی ہو گئے ہیں، پولیس کی مزید نفری جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی

February 16, 2026

کراچی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی نے چکرا گوٹھ میں کاروائی کرتے ہوئے ‘فتنہ الہندوستان’ کے 3 مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کر لیا ہے

February 16, 2026

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر ہو گئی ہے

February 16, 2026

سی آئی ایس ایس اے جے کے اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس تعاون کا مقصد علاقائی سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جوہری سیاست پر باخبر مکالمے کو فروغ دینا ہے

February 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *