گزشتہ روز کولمبو کے میدان میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں 61 رنز سے عبرتناک شکست محض ایک میچ کا ہارنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس ‘خام خیالی’ کے ٹوٹنے کا لمحہ ہے جس میں ہمیں برسوں سے مبتلا رکھا گیا تھا۔ 176 رنز کے ایک تعاقب پذیر ہدف کے سامنے پوری ٹیم کا 114 رنز پر ڈھیر ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری کرکٹ نفسیاتی اور انتظامی طور پر بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے۔ اس شکست کو محض ایک “برا دن” قرار دے کر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اس گہری بیماری کی علامت سمجھتا ہے جس نے ہمارے کھیلوں کے ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔
شعیب اختر کی حالیہ تنقید دراصل اس انتظامی خلاء کی عکاسی کرتی ہے جو پی سی بی کے ایوانوں میں برسوں سے موجود ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس کے سربراہ کی پیشہ ورانہ بصیرت سے جڑی ہوتی ہے۔ جب کرکٹ بورڈ کی سربراہی ایسے افراد کے سپرد کر دی جائے جن کا کھیل سے تعلق محض تماشائی’ کا ہو، تو پالیسیاں دور اندیشی کے بجائے وقتی واہ واہ اور سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر بنتی ہیں۔ شعیب اختر کا یہ سوال نہایت جائز ہے کہ کیا ہم کسی نیورو سرجن کی جگہ کسی بینکر کو بٹھا کر کامیاب آپریشن کی توقع کر سکتے ہیں؟ جب تک کرکٹ بورڈ میں پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کو معیار بنایا جائے گا، میدانِ عمل میں نتائج اسی طرح ذلت آمیز رہیں گے۔
جدید کرکٹ بمقابلہ فرسودہ ذہنیت
عمران خان کے دور میں ‘ٹیمپرامنٹ’ ہی سب کچھ تھا، لیکن آج کی ٹی 20 کرکٹ ایک بے رحم ‘سائنس’ بن چکی ہے۔ ہم آج بھی اس وہم میں جی رہے ہیں کہ ہمارے ‘سپر اسٹارز’ اپنی پرانی تکنیک اور سست بیٹنگ سے میچ جتوا دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید کرکٹ میں 120 کے اسٹرائیک ریٹ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں دنیا بھر کی ٹیمیں پہلی گیند سے ‘پاور ہٹنگ’ اور جارحانہ اسکلز کا مظاہرہ کرتی ہیں، وہاں ہمارے نام نہاد ‘کنگز’ پاور پلے میں اپنی وکٹیں بچانے اور ذاتی اوسط بہتر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ‘پھٹہ پچز’ کے ہیرو بین الاقوامی معیار کی تیز باؤلنگ اور تیکھے اسپن کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت اس نظام میں ہوئی ہے جہاں معیار سے زیادہ ‘نام’ کو اہمیت دی جاتی ہے۔
میرٹ کا قتلِ عام
اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ قومی ٹیم کا انتخاب اب کارکردگی کے بجائے ‘لابنگ’ کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ جب نائب کپتانی اور ٹیم میں شمولیت کا معیار سیاسی اثر و رسوخ بن جائے تو کھلاڑی میں وہ ‘جذبہ’ ختم ہو جاتا ہے جو اسے جیتنے کے لیے ضرورت ہوتا ہے۔ خواجہ نافع اور سلمان مرزا جیسے نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو بینچ پر بٹھا کر عثمان نواز جیسے غیر فعال کھلاڑیوں کو مسلسل موقع دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سلیکشن کمیٹی آزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے مخصوص گروہوں کے دباؤ میں ہے۔
پاکستان کرکٹ اس وقت اس مقام پر کھڑی ہے جہاں محض کپتان بدلنے یا کوچ کی چھٹی کر دینے سے حالات درست نہیں ہوں گے۔ ہمیں ایک ایسی ‘میجر سرجری’ کی ضرورت ہے جس کا آغاز بورڈ کے سربراہ سے ہو اور نچلی سطح تک پہنچے۔ ہمیں ایسے ‘ستاروں’ کی ضرورت نہیں جو صرف کمزور ٹیموں کے خلاف سنچریاں بنا کر ریکارڈز کے انبار لگائیں، بلکہ ہمیں ایسے سپاہیوں کی ضرورت ہے جو دباؤ میں چٹان بن جائیں۔
اگر آج ہم نے اس انتظامی جاہلیت اور اقربا پروری کا خاتمہ نہ کیا تو یاد رکھیے کہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ ہاکی کے بعد کرکٹ بھی ماضی کا قصہ بن جائے گی اور ہم صرف اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹیموں کے استقبال اور رخصت کی خبریں ہی پڑھتے رہ جائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ‘ناموں’ کی پرستش چھوڑی جائے اور ‘کام’ کو ترجیح دی جائے۔
دیکھیے: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا دنگل آج، پاکستان اور بھارت شام ساڑھے چھ بجے مدمقابل ہوں گے