نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

امریکا اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کو مضبوط بنانے سے نہ صرف معاشی استحکام میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی

March 10, 2026

بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

پاکستانی کرکٹ کا بحران: محض شکست نہیں، بلکہ نظام کا زوال

کولمبو میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جدید مہارت سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے
کولمبو میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جدید مہارت سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے

شعیب اختر کی حالیہ تنقید دراصل اس انتظامی خلاء کی عکاسی کرتی ہے جو پی سی بی کے ایوانوں میں برسوں سے موجود ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس کے سربراہ کی پیشہ ورانہ بصیرت سے جڑی ہوتی ہے

February 16, 2026

گزشتہ روز کولمبو کے میدان میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں 61 رنز سے عبرتناک شکست محض ایک میچ کا ہارنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس ‘خام خیالی’ کے ٹوٹنے کا لمحہ ہے جس میں ہمیں برسوں سے مبتلا رکھا گیا تھا۔ 176 رنز کے ایک تعاقب پذیر ہدف کے سامنے پوری ٹیم کا 114 رنز پر ڈھیر ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری کرکٹ نفسیاتی اور انتظامی طور پر بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے۔ اس شکست کو محض ایک “برا دن” قرار دے کر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اس گہری بیماری کی علامت سمجھتا ہے جس نے ہمارے کھیلوں کے ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔

شعیب اختر کی حالیہ تنقید دراصل اس انتظامی خلاء کی عکاسی کرتی ہے جو پی سی بی کے ایوانوں میں برسوں سے موجود ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس کے سربراہ کی پیشہ ورانہ بصیرت سے جڑی ہوتی ہے۔ جب کرکٹ بورڈ کی سربراہی ایسے افراد کے سپرد کر دی جائے جن کا کھیل سے تعلق محض تماشائی’ کا ہو، تو پالیسیاں دور اندیشی کے بجائے وقتی واہ واہ اور سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر بنتی ہیں۔ شعیب اختر کا یہ سوال نہایت جائز ہے کہ کیا ہم کسی نیورو سرجن کی جگہ کسی بینکر کو بٹھا کر کامیاب آپریشن کی توقع کر سکتے ہیں؟ جب تک کرکٹ بورڈ میں پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کو معیار بنایا جائے گا، میدانِ عمل میں نتائج اسی طرح ذلت آمیز رہیں گے۔

جدید کرکٹ بمقابلہ فرسودہ ذہنیت
عمران خان کے دور میں ‘ٹیمپرامنٹ’ ہی سب کچھ تھا، لیکن آج کی ٹی 20 کرکٹ ایک بے رحم ‘سائنس’ بن چکی ہے۔ ہم آج بھی اس وہم میں جی رہے ہیں کہ ہمارے ‘سپر اسٹارز’ اپنی پرانی تکنیک اور سست بیٹنگ سے میچ جتوا دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید کرکٹ میں 120 کے اسٹرائیک ریٹ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں دنیا بھر کی ٹیمیں پہلی گیند سے ‘پاور ہٹنگ’ اور جارحانہ اسکلز کا مظاہرہ کرتی ہیں، وہاں ہمارے نام نہاد ‘کنگز’ پاور پلے میں اپنی وکٹیں بچانے اور ذاتی اوسط بہتر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ‘پھٹہ پچز’ کے ہیرو بین الاقوامی معیار کی تیز باؤلنگ اور تیکھے اسپن کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت اس نظام میں ہوئی ہے جہاں معیار سے زیادہ ‘نام’ کو اہمیت دی جاتی ہے۔

میرٹ کا قتلِ عام
اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ قومی ٹیم کا انتخاب اب کارکردگی کے بجائے ‘لابنگ’ کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ جب نائب کپتانی اور ٹیم میں شمولیت کا معیار سیاسی اثر و رسوخ بن جائے تو کھلاڑی میں وہ ‘جذبہ’ ختم ہو جاتا ہے جو اسے جیتنے کے لیے ضرورت ہوتا ہے۔ خواجہ نافع اور سلمان مرزا جیسے نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو بینچ پر بٹھا کر عثمان نواز جیسے غیر فعال کھلاڑیوں کو مسلسل موقع دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سلیکشن کمیٹی آزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے مخصوص گروہوں کے دباؤ میں ہے۔

پاکستان کرکٹ اس وقت اس مقام پر کھڑی ہے جہاں محض کپتان بدلنے یا کوچ کی چھٹی کر دینے سے حالات درست نہیں ہوں گے۔ ہمیں ایک ایسی ‘میجر سرجری’ کی ضرورت ہے جس کا آغاز بورڈ کے سربراہ سے ہو اور نچلی سطح تک پہنچے۔ ہمیں ایسے ‘ستاروں’ کی ضرورت نہیں جو صرف کمزور ٹیموں کے خلاف سنچریاں بنا کر ریکارڈز کے انبار لگائیں، بلکہ ہمیں ایسے سپاہیوں کی ضرورت ہے جو دباؤ میں چٹان بن جائیں۔

اگر آج ہم نے اس انتظامی جاہلیت اور اقربا پروری کا خاتمہ نہ کیا تو یاد رکھیے کہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ ہاکی کے بعد کرکٹ بھی ماضی کا قصہ بن جائے گی اور ہم صرف اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹیموں کے استقبال اور رخصت کی خبریں ہی پڑھتے رہ جائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ‘ناموں’ کی پرستش چھوڑی جائے اور ‘کام’ کو ترجیح دی جائے۔

دیکھیے: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا دنگل آج، پاکستان اور بھارت شام ساڑھے چھ بجے مدمقابل ہوں گے

متعلقہ مضامین

نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *