"> ماننا ہو گا کہ پاکستان نے وہ کیا جو باقی نہیں کر سکے: عمر عبداللہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ماننا ہو گا کہ پاکستان نے وہ کیا جو باقی نہیں کر سکے: عمر عبداللہ

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے وہ کر دکھایا جو باقی ممالک نہ کر سکے
مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے وہ کر دکھایا جو باقی ممالک نہ کر سکے

وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ کا اہم بیان؛ اسرائیل سے قربت کو بھارت کی سفارتی کمزوری قرار دے دیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی مصلحانہ کوششوں کو بھرپور طریقے سے سراہا ہے

April 9, 2026

وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے سفارتی کردار کی کھلے دل سے تعریف کرتے ہوئے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ عالمی تناظر میں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان نے وہ کر دکھایا جو باقی ممالک کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے جنگ بندی کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، خواہ اس کے لیے پاکستان نے ہی کلیدی کردار کیوں نہ ادا کیا ہو۔

عمر عبداللہ نے بھارتی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات بھارت کے لیے سفارتی محاذ پر کمزوری ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ صرف اسرائیل کی خواہش تھی اور اگر ہم اسرائیل کے اتنے قریب نہ ہوتے تو بھارت بھی وہی مصلحانہ کردار ادا کر سکتا تھا جو پاکستان نے کر کے دکھایا ہے”۔

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف پاکستان کی سفارتی برتری کا اعتراف کیا ہے بلکہ خطے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کے بھارتی مفادات پر پڑنے والے منفی اثرات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عمر عبداللہ کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی حالیہ امن کوششوں نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی رائے عامہ کو متاثر کیا ہے اور پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے۔

دیکھیے: اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا مرکز؛ ایران امریکہ جنگ بندی میں تاریخی کردار، عالمی سطح پر زبردست ستائش

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *