اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے افغان طالبان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے والی پراکسی بن چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کا تنازع افغان عوام سے نہیں بلکہ طالبان کی غلط پالیسیوں سے ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد طالبان حکومت عالمی برادری سے کیے۔۔ گئے تینوں اہم وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان میں جامع طرزِ حکمرانی، خواتین و بچیوں کے حقوق کا تحفظ، اور افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا شامل ہے۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ طالبان کی سرپرستی کے باعث پاکستان میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ اور داعش جیسے فتنے افغان سرزمین کو پاکستان میں خونریزی کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور 2026 میں بھی ان حملوں میں شدت برقرار ہے۔
انہوں نے سنگین الزام عائد کیا کہ کابل حکومت ان عسکریت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں، جدید ہتھیار، مالی معاونت اور سرحد پار سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق طالبان حکومت کا یہ طرزِ عمل خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔
پاکستانی سفیر نے بتایا کہ اسلام آباد نے سعودی عرب، ترکیہ، چین اور قطر جیسے دوست ممالک کے ذریعے ثالثی کی کوششیں کی ہیں، لیکن کابل نے انسدادِ دہشت گردی کی کوئی قابلِ تصدیق یقین دہانی نہیں کرائی۔ انہوں نے عالمی برادری سے طالبان پر مزید سخت پابندیاں اور عالمی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔