دوشنبے: تاجکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 2 افغان منشیات اسمگلروں کو ہلاک کر دیا۔
کرغز جریدے کی رپورٹ کے مطابق تاجک حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے تاجکستان کے ضلع فرخور کے قریب سرحد پار کرنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دونوں اسمگلر مارے گئے جبکہ ان کے قبضے سے تقریباً 25 کلوگرام منشیات بھی برآمد کر لی گئیں۔
تاجک سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ کارروائی سرحدی نگرانی کے معمول کے عمل کا حصہ تھی، جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کی جانب سے منشیات اور جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی غیر مستحکم سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال کے اثرات ہمسایہ ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں، اور منشیات کی اسمگلنگ اس کا ایک بڑا پہلو بن چکی ہے۔ ان کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستیں پہلے ہی اس خطرے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
تاجکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 1370 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس کا بڑا حصہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے اس کی مؤثر نگرانی ایک بڑا چیلنج ہے۔
دیکھئیے:صدر زرداری کی ازبک سفیر سے ملاقات، تجارت اور ٹرانس افغان ریلوے منصوبے پر تعاون بڑھانے پر زور