قازق صدر قاسم جومارت توکایووف کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دونوں ممالک کے مابین ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیے میں افغانستان میں پائیدار امن و استحکام، علاقائی اقتصادی تعاون اور مربوط رابطہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دینے پر غور دیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف نے متعدد بین الاقوامی راستوں کو فعال بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان میں “قازقستان۔ترکمنستان۔ افغانستان۔پاکستان اور چین کے راستے شامل ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو ٹرانس افغان ریلوے کوریڈور کے ذریعے جوڑنے کی قازق صدر کی تجویز کو سراہا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ریلوے لائن کے ممکنہ ترقیاتی منصوبے کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اعلامیے میں اس اہم نکتے پر بھی اتفاق کیا گیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے جو خطے یا دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان کا علاقائی اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری کے منصوبوں میں شامل ہونا نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں