وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نئے نظام سے شفافیت اور مسابقت بڑھے گی جبکہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ہو گا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک قیمتوں میں تبدیلی ہفتہ وار بنیاد پر یکمشت ہوتی تھی، جس کے باعث عوام کو پیٹرول کی فراہمی روک کر ناجائز منافع خوری کی جاتی تھی۔ نئے نظام کے تحت قیمت میں کمی یا اضافہ فوری طور پر عوام تک منتقل ہو گا۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں سے مشاورت کی ہے اور تمام فریقین نے حکومتی پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خود صنعت کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل مشاورتی اجلاس کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ اوگرا بطور ریگولیٹر بغیر کسی سیاسی مداخلت کے قیمتوں کا تعین کرے گا۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملکی تیل کے ذخائر کے حوالے سے وزیراعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے اب تک 4 اجلاس ہو چکے ہیں، اور آئندہ 15 سے 20 دن میں ڈی ریگولرائزیشن کی جانب پیش رفت متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سپلائی چین کی نگرانی کے لیے ایک نیا ادارہ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ایک ماہ کے اندر اس ضمن میں مکمل پیکج عوام کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز یا کسی اور بیرونی ذریعے پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی کمپنیوں کو تیل کی تلاش میں متحرک کیا جا رہا ہے، اور ملک میں کافی کمرشل ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ترکیہ کے وزیر ستمبر اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ بلواسطہ ٹیکسز کا بوجھ غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے، لہٰذا ایسے ٹیکسز میں کمی ہونی چاہیے۔