جنوبی ایشیائی امور کے معروف امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان رواں ہفتے کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں موجود سفارتی حلقوں اور علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے حالیہ دنوں میں خود کو ایک فعال اور مؤثر ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔
تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان ان دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرد مہری ختم کرنے اور ‘برف پگھلانے’ کے لیے ایک کلیدی سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ گزشتہ برس امریکی حکومت نے ایران کے حوالے سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پاکستان کی آمادگی اور سفارتی کوششوں کو کھل کر سراہا تھا، جس کے بعد اب ان کوششوں کے عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
Pakistan reportedly may host US-Iran talks later this week. Islamabad has been pitching itself as a mediator in recent days, and the USG praised Pakistan last year for its willingness to play an Iran mediation role. https://t.co/pn9sYB7GY1
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) March 23, 2026
سفارتی ماہرین کے مطابق اسلام آباد کا ان حساس مذاکرات کے لیے منتخب ہونا پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثمر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں اور کامیاب رہتے ہیں، تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی ایک نئے اور بلند مقام پر پہنچا دیں گے۔
تاہم تاحال حکومتِ پاکستان یا دفترِ خارجہ کی جانب سے ان ممکنہ مذاکرات کی باقاعدہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے کی سیکیورٹی اور معاشی صورتحال کے پیشِ نظر عالمی قوتوں کے درمیان براہِ راست مکالمے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
دیکھیے: ایران وفد کی پاکستان آمد کا دعویٰ جھوٹا، سوشل میڈیا پروپیگنڈا بے نقاب