پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر داخلہ کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ پاکستان نے بھارت میں دہشت گردی کے لیے افراد بھیجے ہیں۔
اس سے قبل بھارتی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے 200 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان کے مطابق 12 اگست کو بھارت کی 14 ریاستوں میں مشترکہ آپریشن کیا گیا اور گرفتار افراد ملک میں تخریبی کارروائیاں کرنا چاہتے تھے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف بھارت کی بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا مہم کا ایک اور مظہر ہے۔ ترجمان کے مطابق بھارت اپنی داخلی سیکیورٹی خامیوں سے توجہ ہٹانے اور محدود سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت اندرون ملک اقلیتوں کو دباتا اور اختلاف رائے خاموش کراتا ہے، جبکہ بیرون ملک دہشت گردی کی معاونت میں ملوث ہے۔ ترجمان نے کلبھوشن یادیو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کے دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے بے بنیاد الزامات مسترد کرے اور خطے میں بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا محاسبہ کرے۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دیکھیے: ساٹھ روزہ ڈیڈ لائن ختم: ٹرمپ کا ایرانی معاہدے میں توسیع سے صاف انکار