مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی، ازبکستان کا پاکستان کی قیادت اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار

April 9, 2026

افغانستان کی جانب سے پاکستان پر اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کا بے بنیاد الزام، ماہرین نے اسے کابل کی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا

April 9, 2026

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے گزشتہ رات ہونے والی اس گفتگو میں لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا

April 9, 2026

جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات کے باوجود اسلام آباد مذاکرات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے؛ تمام شرکاء نے شرکت کی یقین دہانی کروا دی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے حتمی اقدامات مکمل کر لیے ہیں

April 9, 2026

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

April 8, 2026

مولانا خالد امین جے یو آئی (ف) کے مقامی رہنما تھے اور ماضی میں شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤقف رکھنے کے باعث نشانے پر تھے۔

April 8, 2026

یورپی جی ایس پی پلس پر دباؤ کی کوششیں بے نقاب، پاکستان کا دوٹوک مؤقف: اصلاحات جاری، سیاسی مہمات مسترد کر دی

پاکستان 2014 سے اس اسکیم کا حصہ ہے اور اس کے تحت درکار تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر چکا ہے، جن میں انسانی حقوق، لیبر، ماحولیات اور گورننس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
جی ایس پی پلس پر دباؤ

یرون ملک بعض عناصر انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یورپی اداروں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

April 5, 2026

اسلام آباد: پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف بیرون ملک سرگرم بعض عناصر کی مہم پر حکومت اور تجزیہ کاروں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی مقاصد کیلئے انسانی حقوق کے بیانیے کے استعمال کی کوشش قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق جی ایس پی پلس پاکستان کیلئے نہایت اہم معاشی سہولت ہے، جس کے تحت یورپی یونین کی مارکیٹ میں تقریباً 66 فیصد مصنوعات پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے، جس سے برآمدات، صنعت اور روزگار کو فروغ ملا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان 2014 سے اس اسکیم کا حصہ ہے اور اس کے تحت درکار تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر چکا ہے، جن میں انسانی حقوق، لیبر، ماحولیات اور گورننس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان کی تعمیل محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین، صحافیوں کے تحفظ کا قانون، انسداد زیادتی ایکٹ، ٹرانس جینڈر حقوق کا قانون اور بچوں کے تحفظ کیلئے زینب الرٹ ایکٹ شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بعض عناصر انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یورپی اداروں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، خصوصاً دہشتگردی اور بیرونی مداخلت، ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتے ہیں، جس میں بعض گروہ انسانی حقوق کے بیانیے کو استعمال کر کے اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین نے نشاندہی کی کہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی انسانی حقوق سے متعلق سنگین مسائل موجود ہیں، تاہم پاکستان کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو عالمی نظام میں دوہرے معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اصلاحات کا عمل جاری ہے، جبکہ یورپی یونین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کو غیر جانبدار اور قواعد پر مبنی انداز میں دیکھے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جی ایس پی پلس کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے ترقی پذیر ممالک کی معاشی بہتری اور استحکام کیلئے برقرار رکھا جانا چاہیے۔

دیکھئیے:جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کروانے کی کوششیں معاشی تخریب کاری ہیں، سیاسی قیادت کا متفقہ مؤقف

متعلقہ مضامین

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی، ازبکستان کا پاکستان کی قیادت اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار

April 9, 2026

افغانستان کی جانب سے پاکستان پر اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کا بے بنیاد الزام، ماہرین نے اسے کابل کی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا

April 9, 2026

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے گزشتہ رات ہونے والی اس گفتگو میں لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا

April 9, 2026

جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات کے باوجود اسلام آباد مذاکرات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے؛ تمام شرکاء نے شرکت کی یقین دہانی کروا دی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے حتمی اقدامات مکمل کر لیے ہیں

April 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *