اسلام آباد: پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف بیرون ملک سرگرم بعض عناصر کی مہم پر حکومت اور تجزیہ کاروں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی مقاصد کیلئے انسانی حقوق کے بیانیے کے استعمال کی کوشش قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق جی ایس پی پلس پاکستان کیلئے نہایت اہم معاشی سہولت ہے، جس کے تحت یورپی یونین کی مارکیٹ میں تقریباً 66 فیصد مصنوعات پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے، جس سے برآمدات، صنعت اور روزگار کو فروغ ملا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان 2014 سے اس اسکیم کا حصہ ہے اور اس کے تحت درکار تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر چکا ہے، جن میں انسانی حقوق، لیبر، ماحولیات اور گورننس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان کی تعمیل محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین، صحافیوں کے تحفظ کا قانون، انسداد زیادتی ایکٹ، ٹرانس جینڈر حقوق کا قانون اور بچوں کے تحفظ کیلئے زینب الرٹ ایکٹ شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بعض عناصر انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یورپی اداروں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، خصوصاً دہشتگردی اور بیرونی مداخلت، ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتے ہیں، جس میں بعض گروہ انسانی حقوق کے بیانیے کو استعمال کر کے اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین نے نشاندہی کی کہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی انسانی حقوق سے متعلق سنگین مسائل موجود ہیں، تاہم پاکستان کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو عالمی نظام میں دوہرے معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اصلاحات کا عمل جاری ہے، جبکہ یورپی یونین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کو غیر جانبدار اور قواعد پر مبنی انداز میں دیکھے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جی ایس پی پلس کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے ترقی پذیر ممالک کی معاشی بہتری اور استحکام کیلئے برقرار رکھا جانا چاہیے۔
دیکھئیے:جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کروانے کی کوششیں معاشی تخریب کاری ہیں، سیاسی قیادت کا متفقہ مؤقف