سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق نیویارک میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ اس دوران سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب کی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی بھی حمایت کی۔
مکہ معاہدے پر مشاورت
سعودی حکام کے مطابق عسکری سربراہان کا اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہوگا۔ اجلاس میں سعودی عرب کی حمایت اور ممکنہ مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
وزرائے خارجہ کی ملاقات میں تینوں ممالک کے چیف آف اسٹاف کے ہنگامی اجلاس کی تیاریوں پر بھی بات ہوئی۔
سعودیہ حملے
حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاع نے متعدد میزائلوں کو راستے میں روک دیا۔
ان حملوں کے بعد سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں ہنگامی الرٹس بھی جاری کیے گئے۔ ان علاقوں میں مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع شامل ہیں۔