سعودی عرب نے پاکستان میں ٹیکنالوجی، معدنیات اور زراعت کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی وزیر سرمایہ کاری فیصل بن فاضل ابراہیم کے درمیان العُلا شہر میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان کی حالیہ معاشی اصلاحات کی تفصیلات پیش کیں، جن میں قرض جی ڈی پی کے تناسب میں 70 فیصد تک نمایاں کمی اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں بہتری شامل ہے، جو اب تقریباً 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے پائیدار فنانسنگ کے لیے گرین بانڈز اور پانڈا بانڈز جیسے جدید مالیاتی آلات متعارف کرانے کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری نے پاکستان کی معاشی استحکام کی طرف بڑھتی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں موجود قابل ذکر انسانی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے خصوصاً ٹیکنالوجی، معدنیات، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے معاشی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے نجی شعبے کی شرکت، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اور بینک ایبل منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں وزیر خزانہ نے 2022 کے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے ازالے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے موسمیاتی فنڈز کے استعمال کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ معاہدے پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جو نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کرینگے بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ دیں گے۔