پاکستان نے کینیڈا، فرانس اور برطانیہ سمیت 13 ممالک کی جانب سے دو ریاستی حل کے لیے ظاہر کیے گئے عزم کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان عالمی ممالک نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا پر تجارتی پابندیوں پر غور کا اعلان بھی کیا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی حالیہ پیش رفت دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے تشدد اور غیر قانونی بستیوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے علاقائی صورتحال تیزی سے ابتر ہو رہی ہے۔
خاص طور پر ای1 کے علاقے میں نئی بستیوں کے منصوبے کے لیے ٹینڈرز کا فیصلہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ یہ بگڑتی ہوئی صورتحال فلسطینی عوام کے وقار کو مجروح کر رہی ہے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ دائمی جنگ کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ منصفانہ اور پائیدار امن کی خاطر اس حل کی حفاظت انتہائی ضروری ہے، جس کے لیے نیویارک اعلامیے کے اصولوں کے مطابق تمام تر قدم اٹھائے جانے چاہیئیں۔
پاکستان نے فلسطینی سرزمین کے الحاق اور شہریوں کی جبری بے دخلی کی کوششوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ پاکستان کے مطابق ایسے تمام اقدامات عالمی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔
اسرائیل کو چاہیے کہ وہ بستیوں کی توسیع اور انتظامی اختیارات میں اضافے کو فوری طور پر روکے۔ اس کے ساتھ ہی آبادکاروں کے تشدد پر ان کا احتساب کیا جائے اور اسرائیلی افواج کے سنگین جرائم کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق دو ریاستی حل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کی غیر قانونی نوآبادیاتی پالیسیوں کا خاتمہ کرائے۔ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اس ناانصافی اور مسلسل تشدد کو فوری طور پر بند کرنا ہوگا تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔
دیکھیے: سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے: 73 افراد زخمی، پاکستان کی شدید مذمت