اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کو نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کی جانب سے ایک اہم مراسلہ پیش کیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کے اس یکطرفہ اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ اس کے شدید انسانی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔
مراسلے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور بھارت کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق معاہدے پر اس کی اصل روح کے ساتھ مکمل عملدرآمد بحال کرے۔
Earlier today, I handed over a letter from the Deputy Prime Minister/Foreign Minister of Pakistan to the President of the United Nations General Assembly.
— Asim Iftikhar Ahmad, PR of Pakistan to the UN (@PakistanPR_UN) April 24, 2026
The letter highlights the grave implications of India’s illegal suspension of the Indus Waters Treaty (IWT) for regional… pic.twitter.com/b4kqdiRIpA
عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے صدر کی توجہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری بے بنیاد پروپیگنڈا مہم کی طرف بھی مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی کے مفاد میں مخلصانہ ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے، بھارت کی جانب سے من گھڑت الزامات کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اصل حقائق سے ہٹانا ہے۔
پاکستانی مندوب نے خطے کی مجموعی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازع جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اس مسئلے کا حل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تلاش نہیں کیا جاتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
پاکستان نے عالمی ادارے پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی اقدامات اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔