سوشل میڈیا اور مخصوص غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی وہ خبر جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ “کابل میں مبینہ بمباری کرنے والا پاکستانی پائلٹ حسین اقبال لاہور میں قتل کر دیا گیا ہے”، تحقیقات کے بعد مکمل طور پر یہ خبر بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوئی ہے۔
ایچ ٹی این کے مطابق متعلقہ سکیورٹی حکام نے اس نوعیت کے کسی بھی واقعے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے دشمن کا ‘پراپیگنڈا’ قرار دیا ہے۔
واقعے کا زمینی وجود؟
مخصوص مفادات کے حامل گروہوں کی جانب سے پھیلائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘حسین اقبال’ نامی پائلٹ کو لاہور کے علاقے فیصل ٹاؤن میں نشانہ بنایا گیا۔
تاہم حقائق کے مطابق لاہور پولیس اور انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فیصل ٹاؤن یا ایئرپورٹ کے گردونواح میں اس نوعیت کا کوئی بھی فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا۔سکیورٹی اداروں نے اس کذب بیانی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جھوٹی خبر کا کوئی زمینی وجود نہیں ہے۔
فرضی کردار
سکیورٹی اداروں نے مزید وضاحت کی ہے کہ فضائیہ یا کسی بھی عسکری شعبے میں اس نام کا کوئی پائلٹ کسی ایسی مہم کا حصہ نہیں رہا جس کا ذکر اس فرضی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں علاقے کو گھیرے میں لینے یا لاش کی فوجی ہسپتال منتقلی کے تمام دعوے محض افرا تفری پیدا کرنے کی ناکام کوشش ہیں۔ یہ تمام باتیں ایک من گھڑت کہانی کا حصہ ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
دشمن کا بیانیہ
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ کہانی ایک سوچے سمجھے نفسیاتی آپریشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک منفی تاثر قائم کرنا اور قومی اداروں کے حوصلے پست کرنا ہے۔
ایسی خبریں اکثر فرضی ناموں اور غیر موجود مقامات کے سہارے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عالمی سطح پر کسی مخصوص گروہ کے ‘بدلے’ کے جھوٹے بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔
دیکھیے: خیبر پختونخوا میں موسلا دھار بارشیں: چھتیں گرنے سے 8 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق