افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ سال بعد حکومت کی جابرانہ اور سخت گیر پالیسیوں کے خلاف مسلح مزاحمت کے نئے اور شدید آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق طالبان مخالف مزاحمت اب صرف روایتی شمالی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بدخشاں، بغلان، پنجشیر، کابل، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات، قندھار اور ہلمند تک پھیل چکی ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران قندھار، ہلمند، غور، بغلان اور بدخشان میں 6 کامیاب کارروائیاں انجام دی ہیں۔
ان کارروائیوں میں طالبان کے 19 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ غور اور بغلان میں طالبان کی دو اہم جنگی پوزیشنوں پر قبضہ کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود حاصل کر لیا گیا ہے۔
مزاحمتی پیش رفت میں جنرل سمیع سادات کی جانب سے افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے تحت باقاعدہ مسلح جدوجہد کے آغاز اور اے ایف ایف کے رہنما یاسین ضیا کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انہوں نے طالبان کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
طالبان کے روایتی جنوبی گڑھ قندھار اور ہلمند میں طالبان کمانڈروں کو نشانہ بنانا اور بدخشان کے اضلاع زیباک، کران منجان اور یفتل میں چیک پوسٹوں پر عارضی قبضے کے دعوے طالبان کی کمزور ہوتی حکومتی گرفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس سے قبل 25 جولائی کو بھی بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے قافلے پر حملے میں 7 طالبان جنگجو ہلاک اور 6 زخمی ہو گئے تھے۔
مزاحمتی تنظیموں نے افغانستان سے سرگرم دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کو بھی تنبیہ کی ہے کہ افغان سرزمین کو تشدد کے لیے استعمال کرنے والوں کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی جانب سے شہریوں پر منظم جبر، نسلی و مذہبی امتیاز، خواتین اور اقلیتوں کو یکسر خارج کرنے اور بنیادی انسانی آزادیوں کی پامالی نے عام افغان شہریوں کو حکومت سے مزید دور کر دیا ہے۔
دیکھیے: طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز، افغان فریڈم فرنٹ کا قندوز ایئرپورٹ حملے کا دعویٰ