افغانستان کے صوبہ پنجشیر میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جانے والے قافلے پر طالبان فورسز کے مبینہ تشدد اور بدسلوکی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق طالبان اہلکاروں نے شادی کی گاڑی کو راستے میں روکا۔ اس دوران گاڑی میں موجود افراد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعض ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اہلکار دلہن کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
ایک طرف طالبان انتظامیہ ملک میں سخت اسلامی شریعت اور انصاف کے نفاذ کے دعوے کرتی ہے۔ دوسری طرف عام شہریوں کے ساتھ اس نوعیت کے مبینہ واقعات ان دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔
🔴 Taliban’s Brutality in Panjshir
— Kabul Point English (@Kabulpoint) October 5, 2026
According to sources, Taliban forces brutally attacked a wedding vehicle carrying people from Panjshir and forcibly took the bride away with them.
A wedding should be a moment of joy, not a scene of fear, violence, and humiliation. pic.twitter.com/s6kIyW8xnk
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی حکام نے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ دوسری جانب واقعے کے بعد علاقے میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
پنجشیر میں شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ماضی میں پنجشیر میں ماورائے عدالت حراستوں، شہریوں کو یرغمال بنانے اور تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دی تھی۔
شادی بیاہ جیسے خوشی کے موقع پر اس نوعیت کے واقعات نے افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کی غیر یقینی صورتحال کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔