خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی اور نئی انتظامیہ کے قیام کے بعد عوام کو پہلی بار باتوں کے بجائے عملی اقدامات نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ تیرہ سالوں سے عوام نے صرف تبدیلی کا نعرہ سنا اور محض دعوے دیکھے، لیکن عملی طور پر صوبے کا صوبائی دارالحکومت پشاور تجاوزات اور انتظامی بدنظمی کی تصویر بنا رہا۔ اب گورنر راج اور نگران نظام کے بعد جو مثبت انتظامی اصلاحات دیکھنے کو مل رہی ہیں، وہی دراصل حقیقی اور اصل تبدیلی ہے۔
پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن اب چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے، جس کے تحت 400 سے زائد غیر قانونی دکانیں، مارکیٹیں اور پختہ تعمیرات مسمار کی جا چکی ہیں۔ رنگ روڈ کے اہم چوکوں، جیسے پیر زکوڑی فلائی اوور، حیات ٹول پلازہ اور قمر دین تک بھاری مشینری کے ذریعے راستوں کو صاف کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو انتظامیہ شہر کی نقشہ کاری اور اصل خوبصورتی چند دنوں میں بحال کر سکتی ہے۔
انتظامیہ کا بلاامتیاز اور بغیر کسی سیاسی یا سماجی دباؤ کے کارروائی کرنا انتہائی خوش آئند ہے۔ کمشنر پشاور اور ضلعی انتظامیہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ آپریشن محض چند مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ رنگ روڈ کے بعد اندرون شہر کے بازاروں کو بھی تجاوزات سے پاک کیا جائے گا۔ تجارتی تنظیموں سے مشاورت کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کی پالیسی پائیدار نتائج فراہم کرے گی۔
اس تمام تر صورتحال میں عام شہریوں کا ردعمل سب سے اہم ہے، جنہوں نے اس مہم کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق تجاوزات کے باعث پشاور کی خوبصورتی اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔ اب سڑکیں کشادہ ہو رہی ہیں اور آمدورفت آسان دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم، اصل چیلنج اس مہم کو صرف عارضی آپریشن بنانے کے بجائے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا اور واگزار کرائی گئی اراضی پر دوبارہ قبضے روکنا ہے۔
پشاور کو کبھی پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا، لیکن برسوں کی ناقص حکمت عملی اور نظر اندازی نے اس کی رونق چھین لی تھی۔ اب جبکہ صوبہ ایک نیا انتظامی رخ اختیار کر رہا ہے، عوام کو امید ہے کہ نعروں کی سیاست ختم ہوگی اور بنیادی سہولیات، صفائی اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دی جائے گی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کی خیبر پختونخوا کے عوام کو واقعی ضرورت تھی۔





