پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر کسی افغان خاتون کی شادی پاکستانی شہری سے قانونی طور پر ثابت ہو جائے تو نادرا اس کی ازدواجی حیثیت اپڈیٹ کرے اور اسے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) جاری کرے۔
پشاور ہائی کورٹ نے افغان شہریوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ ادارے قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد درخواست گزار کی ازدواجی حیثیت کو سرکاری ریکارڈ میں درست کریں اور انہیں قانونی سہولت فراہم کریں۔
عدالت کے مطابق قانون بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کو بھی اسی کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والی افغان خواتین کو قانونی شناخت اور دستاویزات کے حصول میں آسانی ملے گی۔
ماہرین نے عدالتی فیصلے کو انسانی حقوق اور خاندانی قوانین کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
دیکھئیے:خواتین کے عالمی دن سے قبل کابل میں افغان خواتین کے طالبان مخالف مظاہرے، وال چاکنگ بھی کی گئی