پاکستان کے خلاف بیرونِ ملک بیٹھ کر زہریلا پراپیگنڈا کرنے والے سابق داغدار فوجی افسر اور نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عادل راجہ کا اصل چہرہ اور غداری کا نیٹ ورک مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی جی ڈٰ آئی کی ایک انتہائی حساس اور خفیہ سرکاری دستاویز منظرِ عام پر آئی ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موصوف پاکستان کے بجائے افغان حکومت اور بین الاقوامی صیہونی و ہندوتوا لابی کے اشاروں پر ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
پشتو زبان میں تحریر کردہ یہ آفیشل مکتوب افغان انٹیلی جنس کی ذیلی شاخ ریاست 89 کی جانب سے امارتِ اسلامیہ کی وزارتِ مالیہ (وزارتِ خزانہ) کے بجٹ ڈپارٹمنٹ کو ارسال کیا گیا ہے، جس میں عادل راجا کا نام اور ان کا سابقہ پسِ منظر واضح طور پر درج ہے۔
#Exclusive:
— Ahmad Sharifzad (@AhmadSharifzad) June 27, 2026
Based on a document obtained from the Taliban's General directorate of intelligence (GDI), the intelligence authority has assigned an operational salary equivalent to £2,000 to former Pakistani Army officer Adil Raja (@soldierspeaks), who is currently a critic of… pic.twitter.com/lox1zf0FMz
مکتوب کا عنوان د اوپراتیفي معاش د منظورۍ غوښتنه یعنی اوپریشنل تنخواہ یا الاؤنس کی منظوری کی درخواست ہے۔ اس خط میں باقاعدہ اعتراف کیا گیا ہے کہ عادل راجۃ کی جانب سے طالبان حکومت کے حق میں کی جانے والی مؤثر تشہیری خدمات، سوشل میڈیا مہمات اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بنے گئے بیانیے کے عوض انہیں ماہانہ 1 لاکھ 70 ہزار افغانی کی رقم دی جائے، جو کہ برطانوی کرنسی میں تقریباً 2 ہزار پاؤنڈز کے مساوی بنتی ہے۔
سرکاری لیٹر ہیڈ پر جاری اس دستاویز پر باقاعدہ ڈائری نمبر 4317 درج ہے اور اس پر انٹیلی جنس حکام کی نیلے رنگ کی آفیشل مہر کے ساتھ ریاست 89 کے سربراہ مولوی حبیب اللہ رشاد کے باقاعدہ دستخط بھی موجود ہیں۔
خط کے متن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عادل راجہ ایک پیڈ ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، جن کا مقصد صرف اپنے بیرونی آقاوں کو خوش کرنا ہے۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق، اس آفیشل دستاویز کے سامنے آنے کے بعد عادل راجہ کا نام نہاد حق کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنے کے لیے دشمن ممالک، بالخصوص افغان انٹیلی جنس اور اسرائیل نواز لابیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
چند ٹکڑوں کے عوض وطنِ عزیز کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے ایسے عناصر کا اصل ٹھکانہ تاریخ کا کوڑا دان ہے، اور اس فنڈنگ ٹریل کے افشا ہونے کے بعد اب عالمی سطح پر بھی ان کے خلاف قانونی گھیرا تنگ ہونے کی راہیں ہموار ہو گئی ہیں۔