وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر اہم اور مختصر سرکاری دورے پر جدہ پہنچے۔ شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر پرنس سعود بن مشعل نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ دورے کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے دوطرفہ اسٹریٹجک مشاورت کو آگے بڑھانا تھا۔
اعلیٰ سطحی ملاقات
مذکورہ ملاقات میں پاکستان کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت بھی شریک رہی۔ جن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل ہیں۔ وزیراعظم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاکستان کی معاشی و دفاعی استحکام کے لیے سعودی عرب کی طویل المدتی حمایت کی بھرپور ستائش کی۔
Prime Minister of Pakistan Meets Crown Prince Mohammed bin Salman in Jeddah
— Mosharraf Zaidi 🇵🇰 (@mosharrafzaidi) March 12, 2026
Prime Minister's Office
Media Wing
JEDDAH: 12 MARCH 2026
The Prime Minister of Pakistan held a restricted meeting with His Royal Highness Prince Mohammed bin Salman bin Abdulaziz Al Saud, Crown Prince…
علاقائی سلامتی پر اتفاق
دوران ملاقات مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، بالخصوص ایران و اسرائیل تنازع اور اس کے خطے پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جانبین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ طور پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا کہ تشدد کا فوری خاتمہ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔
سعودی عرب سے غیر مشروط یکجہتی
وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ مشکل حالات میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر مشروط اور مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کی سالمیت اور دفاع کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کا تحفظ اور سعودی عرب کا استحکام پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے اور خطے میں امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر تعاون مزید مستحکم کیا جائے گا۔
مكتب رئيس وزراء باكستان: رئيس الوزراء يؤكد لولي العهد السعودي الدعم الكامل للسعودية
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) March 12, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/7tv7NSn7hk
تہران اور ریاض کے مابین توازن
دوسری جانب دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے ملاقات سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے توازن اور اعتماد کی فضا کو برقرار رکھا۔ اس رابطے میں جہاں تعزیت اور مبارکباد کا تبادلہ ہوا، وہی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے ایران کے تحفظات اور تجاویز کو بھی سنا گیا۔ پاکستان کا یہ کردار ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی نئے تنازع کے حوالے سے غیر جانبدار رہتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا حامی ہے۔
بین الاقوامی قوانین اور اصولی مؤقف
پاکستان نے اس بحران کے دوران تین بنیادی سفارتی اصولوں پر زور دیا ہے: تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، ایک دوسرے کی سرزمین پر طاقت کے استعمال سے گریز، اور بین الاقوامی قانون سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے خلیجی ممالک کی تنصیبات پر حملوں کی بھی شدید مذمت کی ہے اور اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
خلیجی ممالک سے ہم آہنگی
سفارتی محاذ پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ہم منصبوں سے رابطے تیز کر رکھے ہیں۔ عمان، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت سے ہونے والی بات چیت میں یہ نکتہ مشترک رہا کہ خطے میں معاشی استحکام کے لیے امن ناگزیر ہے۔ پاکستان کی قیادت اس وسیع تر سفارتی کاوش کا حصہ ہے جس کے تحت خطے میں مستقل جنگ بندی اور تشدد کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے پائیدار حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔