سابق نمائندہ خصوصی محمد صادق کی روسی سفیر البرٹ پی کھوریف سے ملاقات؛ خطے کی حالیہ صورتحال اور سرحد پار دہشت گردی کے اثرات پر اہم تبادلہ خیال۔

April 29, 2026

جب دنیا اندھیروں کی طرف بڑھ رہی تھی، پاکستان کی قیادت نے اپنی بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے عالمی شور کو خاموشی اور امن میں بدل دیا۔ فنکار نے اپنے الفاظ میں اس بات پر زور دیا کہ جب ہر طرف سے مذاکرات کے دروازے بند ہو رہے تھے، تب اسلام آباد نے امن کی شمع روشن کی۔

April 28, 2026

اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔

April 28, 2026

ان ماہرین کی تربیت اور تکنیکی مہارت پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ افغان انٹیلی جنس ادارے اب ان افراد کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔

April 28, 2026

رایان حبیب نے جھیل ووڈ لینڈز کے 24 ڈگری سینٹی گریڈ ٹھنڈے پانی میں 3.8 کلومیٹر تیراکی کا پہلا مرحلہ 1 گھنٹہ 45 منٹ میں مکمل کیا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں انہوں نے ہارڈی ٹول روڈ پر 180 کلومیٹر سائیکلنگ کا کٹھن سفر 7 گھنٹے 27 منٹ میں طے کیا

April 28, 2026

دنانیر کا کہنا تھا کہ آن لائن تنقید نوجوان خواتین کے لیے ذہنی طور پر انتہائی مشکل ثابت ہوتی ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ نرمی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں۔

April 28, 2026

وزیراعظم کا دورۂ سعودی عرب، ولی عہد سے ملاقات؛ خطے میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے مشترکہ سفارتی مشن پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان جدہ میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا گیا
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان جدہ میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا گیا

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار بھی شریک

March 13, 2026

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر اہم اور مختصر سرکاری دورے پر جدہ پہنچے۔ شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر پرنس سعود بن مشعل نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ دورے کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے دوطرفہ اسٹریٹجک مشاورت کو آگے بڑھانا تھا۔

اعلیٰ سطحی ملاقات

مذکورہ ملاقات میں پاکستان کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت بھی شریک رہی۔ جن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل ہیں۔ وزیراعظم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاکستان کی معاشی و دفاعی استحکام کے لیے سعودی عرب کی طویل المدتی حمایت کی بھرپور ستائش کی۔

علاقائی سلامتی پر اتفاق

دوران ملاقات مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، بالخصوص ایران و اسرائیل تنازع اور اس کے خطے پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جانبین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ طور پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا کہ تشدد کا فوری خاتمہ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔

سعودی عرب سے غیر مشروط یکجہتی

وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ مشکل حالات میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر مشروط اور مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کی سالمیت اور دفاع کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کا تحفظ اور سعودی عرب کا استحکام پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے اور خطے میں امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر تعاون مزید مستحکم کیا جائے گا۔

تہران اور ریاض کے مابین توازن

دوسری جانب دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے ملاقات سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے توازن اور اعتماد کی فضا کو برقرار رکھا۔ اس رابطے میں جہاں تعزیت اور مبارکباد کا تبادلہ ہوا، وہی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے ایران کے تحفظات اور تجاویز کو بھی سنا گیا۔ پاکستان کا یہ کردار ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی نئے تنازع کے حوالے سے غیر جانبدار رہتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا حامی ہے۔

بین الاقوامی قوانین اور اصولی مؤقف

پاکستان نے اس بحران کے دوران تین بنیادی سفارتی اصولوں پر زور دیا ہے: تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، ایک دوسرے کی سرزمین پر طاقت کے استعمال سے گریز، اور بین الاقوامی قانون سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے خلیجی ممالک کی تنصیبات پر حملوں کی بھی شدید مذمت کی ہے اور اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

خلیجی ممالک سے ہم آہنگی

سفارتی محاذ پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ہم منصبوں سے رابطے تیز کر رکھے ہیں۔ عمان، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت سے ہونے والی بات چیت میں یہ نکتہ مشترک رہا کہ خطے میں معاشی استحکام کے لیے امن ناگزیر ہے۔ پاکستان کی قیادت اس وسیع تر سفارتی کاوش کا حصہ ہے جس کے تحت خطے میں مستقل جنگ بندی اور تشدد کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے پائیدار حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

متعلقہ مضامین

سابق نمائندہ خصوصی محمد صادق کی روسی سفیر البرٹ پی کھوریف سے ملاقات؛ خطے کی حالیہ صورتحال اور سرحد پار دہشت گردی کے اثرات پر اہم تبادلہ خیال۔

April 29, 2026

جب دنیا اندھیروں کی طرف بڑھ رہی تھی، پاکستان کی قیادت نے اپنی بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے عالمی شور کو خاموشی اور امن میں بدل دیا۔ فنکار نے اپنے الفاظ میں اس بات پر زور دیا کہ جب ہر طرف سے مذاکرات کے دروازے بند ہو رہے تھے، تب اسلام آباد نے امن کی شمع روشن کی۔

April 28, 2026

اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔

April 28, 2026

ان ماہرین کی تربیت اور تکنیکی مہارت پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ افغان انٹیلی جنس ادارے اب ان افراد کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔

April 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *