وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں صوبے میں قیام امن، انسداد دہشت گردی اور عوامی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور صوبے کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت ہمیشہ کوشاں ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور یقین دلایا کہ وفاق اور صوبائی حکومت مل کر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گے۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے مابین روابط اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون جاری رہے گا۔
ملاقات کے بعد وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات صوبے کے عوام کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کے لیے تھی۔ انہوں نے بلوچستان میں حالیہ واقعے پر وزیراعظم سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ دہشت گردی کی ہر صورت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع میں صوبائی حکومت نے اب تک 26 ارب روپے کے ترقیاتی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے احسن اقبال اور دیگر حکام کو فوری ہدایات جاری کی ہیں اور آئندہ بھی مزید ملاقاتیں ہوں گی۔ وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس ملاقات میں سیاسی امور پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ اور صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی پر توجہ مرکوز کرے گی۔
ملاقات میں وفاقی مشیر خزانہ مزمل اسلم، خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں، بین الاقوامی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ صحت اور تعلیم کے شعبے میں عوام کے لیے اقدامات کرے اور تمام وفاقی و صوبائی ادارے مل کر صوبے میں امن و استحکام کو یقینی بنائیں۔
دیکھیے: افغان عہدیدار کے سوشل میڈیا بیانات میں بی ایل اے کی حمایت، پاکستان کے شدید تحفظات