اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، بڑی سفارتی پیشرفت
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے اہم امن مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، جہاں دونوں ممالک کی قیادت شرکت کرے گی۔ وزیراعظم کے مطابق ان کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو دونوں فریقین نے قبول کر لیا ہے اور اب معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے باعث فخر ہے کہ ایک اہم عالمی تنازع کے حل کیلئے اسلام آباد کو مرکزی کردار حاصل ہوا ہے۔
خطے میں جنگ سے امن کی جانب پیش رفت
وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی خطے میں جہاں کل تک جنگی صورتحال تھی، اب وہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
عسکری و سفارتی قیادت کا کردار
وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنگ کے شعلے بجھانے اور فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے تاریخ سنہرے حروف میں یاد رکھے گی۔
انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دن رات محنت کر کے یہ سفارتی کامیابی حاصل کی۔
پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا اعلان
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں عوام کیلئے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا۔ نئی قیمتوں کے مطابق ڈیزل 385 روپے اور پیٹرول 366 روپے فی لیٹر ہو جائے گا، جس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کا مکمل فائدہ عوام تک پہنچایا جائے، جبکہ مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے پہلے ہی 129 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
عوامی ریلیف اور حکومتی ترجیحات
وزیراعظم نے واضح کیا کہ انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ قیمتوں میں کمی کا کچھ حصہ حکومتی اخراجات کیلئے رکھا جائے، تاہم انہوں نے یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے مشکل حالات میں صبر کیا، اس لیے ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ موٹرسائیکل، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی جاری رہے گی، جبکہ کسانوں کیلئے لاگت کم کرنا بھی حکومت کی ترجیح ہے۔
پاکستان کا ابھرتا عالمی کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے ایک نئے مرکز کے طور پر پاکستان کے ابھرتے کردار کی واضح علامت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا، اسلام آباد کا مذاکرات کیلئے انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار کریں گے بلکہ پاکستان کی سفارتی حیثیت کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے، جہاں ملک محض ایک فریق نہیں بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کرنے والی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔