گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اب تک 10 نشستیں جیت کر سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق اب تک 24 میں سے 17 حلقوں کے مکمل غیر سرکاری نتائج موصول ہو چکے ہیں، جبکہ بقیہ حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے۔
نتائج کی تفصیلات
اب تک سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ سرِفہرست ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدواروں کا پینل رہا ہے جنہوں نے 6 حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے حصے میں ایک ایک نشست آئی ہے۔
حلقہ وار نتائج کے مطابق
پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار: جی بی اے-1 گلگت سے امجد حسین، جی بی اے-4 نگر سے محمد علی اختر، جی بی اے-5 نگر سے ذوالفقار علی مراد، جی بی اے-7 اسکردو سے سید توقیر مہدی، جی بی اے-9 اسکردو سے فدا محمد ناشاد، جی بی اے-10 اسکردو سے ناصر علی خان، جی بی اے-11 کھرمنگ سے اقبال حسن، جی بی اے-12 شگر سے عمران ندیم اور جی بی اے-19 غذر سے سید جلال شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔
دیگر کامیاب امیدوار
جی بی اے-3 گلگت سے آزاد امیدوار سید سہیل عباس، جی بی اے-6 ہنزہ سے نیک نام کریم، جی بی اے-16 دیامر سے سید امام مالک، جی بی اے-21 غذر سے امان علی، جی بی اے-23 اور جی بی اے-24 گھانچے سے بالترتیب انور علی اور اسد شفیق کامیاب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب جی بی اے-8 اسکردو سے مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم اور جی بی اے-22 گھانچے سے مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی نے میدان مار لیا ہے۔
بقیہ حلقے
ذرائع کے مطابق بقیہ 7 حلقوں میں گنتی کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جی بی اے-2 گلگت میں مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان کو برتری حاصل ہے، جبکہ استور کے دونوں حلقوں (جی بی اے-13 اور جی بی اے-14) اور دیامر کے حلقہ جی بی اے-18 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اپنے حریفوں سے آگے ہیں۔ غذر اور دیامر کے دیگر حلقوں میں آزاد امیدوار اور پیپلز پارٹی کے درمیان پوزیشنز تبدیل ہو رہی ہیں۔
پولنگ کا عمل
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر حکومت سازی کے لیے مجموعی طور پر 403 امیدوار انتخابی دنگل میں شریک تھے، جن میں 395 مرد اور محض 8 خواتین امیدوار شامل تھیں۔ خطے بھر میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے پرامن طریقے سے جاری رہا، جس کے بعد فوری طور پر بیلٹ بکس کھول کر گنتی کا آغاز کر دیا گیا تھا۔
Gilgit-Baltistan mein teeron ki barish. The Pakistan Peoples Party is emerging as the single largest party and we will be attempting to form government. I am grateful to the people for their trust and congratulations to Jiyalas on their victory.
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) June 7, 2026
بلاول بھٹو کا بیان
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ابتدائی انتخابی نتائج میں پارٹی کی واضح برتری پر گہرے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ‘تیروں کی بارش’ ہو رہی ہے اور پیپلز پارٹی خطے میں سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہے۔
انہوں نے عوام کی جانب سے پارٹی قیادت پر بھرپور اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام کارکنوں اور جیالوں کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی جماعت دیگر اتحادیوں اور آزاد امیدواروں کے تعاون سے خطے میں ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بقیہ حلقوں کے حتمی نتائج اور مخصوص نشستوں کے کوٹے کی تقسیم کے بعد ہی گلگت بلتستان کے آئندہ سیاسی منظرنامے اور نئی حکومت کی تشکیل کی حتمی تصویر واضح ہو سکے گی۔