پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 2025 کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔
انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 اور دیگر علاقوں میں ایک ہزار 739 آپریشنز شامل ہیں۔
سال 2025 میں ہونے والی کاروائیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 2 ہزار 597 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، تاہم ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات بھی پیش آئے جن میں 1 ہزار 235 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 16 خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے، جبکہ ان میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے، جو دہشت گردی کے بدلتے ہوئے رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
خیبرپختونخوا سب سے بڑا شکار
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جس کی بنیادی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔ ان کے مطابق صرف کے پی میں 3811 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جبکہ 2021 سے 2025 تک دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 میں 193 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 597 فوجی جوان شہید ہوئے، جو اس خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال قبل صورتحال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہوتے تھے، تاہم اب یہ تناسب تبدیل ہو چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں، جو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔
افغانستان: دہشت گردی کا گڑھ
پریس کانفرنس میں افغانستان کو دہشت گردی کا مرکزی گڑھ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جڑیں افغانستان میں ہیں اور تمام بڑی دہشت گرد تنظیمیں وہیں موجود ہیں جہاں ان کی پرورش اور سرپرستی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی پیدا ہوئی، پاکستان نے بارہا افغان حکام کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا کہا، لیکن جب بات نہ بنی تو چند گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ 2025 میں پاکستان میں ہونے والے دس بڑے دہشت گرد حملوں میں ملوث تمام افراد افغان شہری تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران گرفتار افغان دہشت گردوں کے ویڈیو بیانات بھی دکھائے گئے جن میں انہوں نے پاکستان میں حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان کا بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں اور فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
بھارت دہشت گردی کا سرپرست قرار
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو بھارت سے مالی مدد اور پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور بھارت کو سبق سکھانا ناگزیر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امریکا کا چھوڑا گیا سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کا فوجی اسلحہ اس وقت بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے جو براہ راست دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ جب افغانستان میں طالبان اپنی عمل داری مستحکم کر رہے تھے، اسی دوران پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کی حکومت نے دہشت گرد عناصر سے مذاکرات اور انہیں اسپیس دینے کی پالیسی اپنائی، جس کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو منظم ہونے اور دوبارہ فعال ہونے کا موقع ملا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر یکجہتی ناگزیر ہے۔
دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں طے ہوا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، مگر عملی طور پر دہشت گرد اور کالعدم تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور افغانستان اس وقت خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بزور طاقت جیتی جائے گی اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔
افغانستان میں نشانہ ٹی ٹی پی کو بنایا گیا
ان کا کہنا تھا ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نہ کہ ٹی ٹی اے کو نشانہ بنایا، ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے،اس پر نظر ڈالیں تو 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں، دہشت گردوں نے عام شہریوں اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانوں نے کیے۔
خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کئی وزرا کے کئی ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت متعدد وزرا مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے‘۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے، اپنے سہولت کار کے لیے، پتہ نہیں کس کی سہولت کاری کے لیے، اپنے صوبے کو، اپنے علاقے کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔‘
افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ امریکا 7.2 ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اس میں نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، حفاظتی آلات، ایم فور اور ایم سولہ رائفلیں شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سازوسامان افغان طالبان کے لیے دستیاب تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف دہشت گرد تنظیموں تک پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2021 میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے اندرونی طور پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنا شروع کی اور ان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا جبکہ وہاں افغانستان میں ایک بڑی بساط بچھائی جا رہی تھی۔
یہ اشارہ اُس وقت کی پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب آپ دہشت گردوں کو اتنی گنجائش اور وسائل فراہم کرتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں ریاست نے ان کے خلاف کھڑا ہونا شروع کیا۔
انہوں نے 2023 میں پشاور کے پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے بعد آرمی چیف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر دہشت گردی کے بارے میں واضح مؤقف دیا گیا، اور اب پورے پاکستان میں یہ وضاحت موجود ہے۔
اس وضاحت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، انہیں ختم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاہم اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو مسلح کرنا، تربیت حاصل کرنا، درست ٹیکنالوجی اپنانا، بیانیہ تشکیل دینا اور قوم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں اسکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔
’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس بھی چلائے اور کہا کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔
انہوں نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق ایک بیان دکھایا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجک اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔
اے این پی کی مثال دیتے ہوئے جسے دہشت گردی کی مخالفت کرنے پر دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مرنے کے لیے تیار نہیں، ہم کھڑے نہیں ہوں گے، ہم ان کے ساتھ جا ملیں گے۔
انہوں نے پھر پی ٹی آئی کا نام لیے بغیرسوال اٹھایا کہ دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشت گرد سےکوئی ہمدردی نہیں، دہشت گردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق کو غالب ہی آنا ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔
عمران خان ڈکٹیٹر قرار
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے اپنی جماعت کو ایک ڈکٹیٹر کی طرح چلایا، پوری جماعت اس ایک بندے کے گرد گھومتی تھی اور اس وقت پوری حکومت بھی ان کے گرد ہی گھومتی تھی۔‘
’اس وقت بھی ان کو تھا کہ بات چیت کرو، بات چیت کرو اور وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جاتا ہے، پڑ جاتا ہے۔ جو اس وقت ڈی جی آئی تھے، وہ اس وقت کدھر ہی، جن کو انھوں نے اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ آپ اسے ادارے پر نہیں لگا سکتے یہ شخصیات کا کھیل تھا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بھئی وہ وزیراعظم تھا، وہ با اختیار وزیراعظم تھا۔ جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو کوئی اختیار نہیں تھا۔ وہ اتنا با اختیار وزیراعظم تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دیا تھا۔ اتنا اختیار تو سنہ 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دے۔‘
’ہمیں تو یہ ہی پتہ ہے کہ قوم کا ایک ہی باپ ہے قائد اعظم محمد علی جناح، وہ عظیم شخصیت جس نے ملک بنایا۔ اور قوم کا ایک ہی شاعر ہے، علامہ اقبال اور ہم تو ان کو ہی پڑھ کر آئے تھے۔ یہ قوم کا ایک نیا پاب لے کر آ گئے تھے کیونکہ اس وقت ان کی سیاست یہ ہی ڈیمانڈ کرتی تھی۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ ’وہ جو ابھی بھی بیٹھ کر کہتے ہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ ابھی بھی کہتے ہیں کہ بات چیت سے مسئلہ حل کرو، وہ جو خبط ادھر تھا وہ خبط ابھی بھی ہے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کو ان طالبان یا دہشتگردوں سے کیا محبت ہے۔ آپ کو ان کے گمراہ کن نظریات سے کیا محبت ہے۔ کس کے کہنے پر آپ پورے صوبے کو تو جھونک چکے ہیں اور اب پورے ملک کو اس آگ میں جھونک رہے ہیں، جس کا ایندھن آپ کے بچے بن رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں پر ترقی نہیں ہو رہی، کاروبار نہیں آ رہا۔ وہاں پر لوگ محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی