کابل بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، قندھار ائیرپورٹ اور پکتیا میں فوجی تنصیبات پر فضائی حملے؛ متعدد طالبان اہلکار و ٹی ٹی پی خوارج ہلاک

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان فضائی کارروائیوں کا ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانے تھے جو مبینہ طور پر افغان طالبان کی بعض فوجی تنصیبات اور مراکز کے اندر یا ان کے قریب پناہ لیے ہوئے تھے۔
کابل بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، قندھار ائیرپورٹ اور پکتیا میں فوجی تنصیبات پر فضائی حملے؛ متعدد طالبان اہلکار ہلاک

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سے پانچ روز کے نسبتاً سکون کے بعد ایک مرتبہ پھر فضائی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

March 13, 2026

افغانستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد کابل، قندھار اور خوست سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کابل کے علاقے پلِ چرخی میں واقع ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا جہاں متعدد زور دار دھماکے ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق جنگی طیاروں کی پروازیں سنی گئیں اور اس کے بعد مسلسل بمباری کی آوازیں آتی رہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائیوں کے دوران قندھار ایئرپورٹ کے قریب بھی دھماکے سنے گئے جبکہ صوبہ پکتیا کے ضلع چمکنی میں طالبان کی مبینہ فوجی پوزیشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی تعداد میں خوارج کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تفصیلی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان فضائی کارروائیوں کا ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانے تھے جو مبینہ طور پر افغان طالبان کی بعض فوجی تنصیبات اور مراکز کے اندر یا ان کے قریب پناہ لیے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے عناصر ان مقامات کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے جس کے باعث ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں ملوث دہشت گرد نیٹ ورک کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا تھا۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سے پانچ روز کے نسبتاً سکون کے بعد ایک مرتبہ پھر فضائی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ کابل کے ایک رہائشی نے بتایا کہ رات کے وقت اچانک تین بڑے دھماکے ہوئے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ پوری رات جاگتے رہے۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی مکمل تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں اور حملوں سے متعلق مزید معلومات جلد سامنے آنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *