پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماء شہباز گل کی جانب سے بانئ پی ٹی آئی کی صحت، بالخصوص ان کی بینائی کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے حقائق کے برعکس نکلے۔ طبی ماہرین اور سرکاری دستاویزات کے مطابق اس حساس معاملے پر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔
طبی رپورٹ
عدالت میں جمع کرائی گئی سرکاری میڈیکل رپورٹ کے مطابق بانئ پی ٹی آئی کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عینک کے استعمال کے ساتھ ان کی نظر 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 کی تسلی بخش سطح پر پہنچ چکی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہتری کسی ‘معجزے’ یا سیاسی ‘یو ٹرن’ کا نتیجہ نہیں بلکہ جیل قوانین کے تحت فراہم کیے گئے باقاعدہ علاج کا ثمر ہے۔
مبالغہ آرائی
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کسی بھی مستند ڈاکٹر یا طبی ادارے نے بینائی میں 85 فیصد کمی کی تصدیق نہیں کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ خود بانیئ پی ٹی آئی نے اپنے وکیل سلمان صفدر سے گفتگو کے دوران کیا تھا، جسے بعد ازاں شہباز گل نے ایک سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کیا۔ اسی طرح صحافی ابصار عالم کی جانب سے اس حالت کو ‘ناقابلِ علاج’ قرار دینا محض ایک ذاتی قیاس آرائی ثابت ہوئی ہے، کیونکہ کسی بھی میڈیکل بورڈ نے ایسی کوئی رائے نہیں دی تھی۔
ناقدین نے شہباز گل کو ‘پروپیگنڈا فروش’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سنسنی خیزی کے ذریعے اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی کا جھوٹ پر مبنی بیانیہ دم توڑ چکا ہے، تاہم اس قسم کی گمراہ کن مہم جوئی کا قانونی محاسبہ ناگزیر ہے۔
دیکھیے: عمران خان کی صحت کے معاملے پر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے؛ محسن نقوی