وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف لانگ مارچ اور دھرنے سے بھاگ گئی ہے۔ ہمت ہے تو اسلام آباد آئے اور دھرنا دے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ تاہم، اب وہ دھرنے اور لانگ مارچ سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی لانگ مارچ کے لیے کوئی مؤثر تیاری نظر نہیں آئی۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سے ہو کر آئی، لیکن وہاں بھی کوئی خاص تیاری دکھائی نہیں دی۔
پی ٹی آئی کو چیلنج
عطا تارڑ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی میں ہمت ہے تو لانگ مارچ کرے۔ اسلام آباد آئے اور دھرنا دے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف نعروں سے ملک نہیں چلتے۔ ملک کام کرنے سے چلتا ہے۔ سیاست ضرور کریں، لیکن منفی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر خیبرپختونخوا میں امن و امان بہتر نہ بنانے کا بھی الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو اپنے علاقوں میں امن و امان کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ 2026 میں خیبرپختونخوا میں 2,456 دہشت گرد حملے ہوئے۔ ان واقعات میں پولیس، فوج، رینجرز اور ایف سی کے 472 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 1,500 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
پی ٹی آئی پر تنقید
وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردوں کی سہولتکاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے صوبے کی مختلف سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا، مگر پی ٹی آئی کو نشانہ نہیں بنایا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کی مذمت اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ صوبے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو صوبے میں امن و امان پر توجہ دینی چاہیے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ افغانستان سے کوہاٹ پر ڈرون حملے اور کرم میں فائرنگ کے واقعات ہوئے۔ تاہم، صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر ردعمل نظر نہیں آیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ پولیس اصلاحات اور امن و امان پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف متحرک ہیں۔ پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائی جاری ہے۔