پی ٹی آئی کی حالیہ سیاسی اقدامات اور تنظیمی رویوں نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی بتدریج ایک ایسی سیاسی اکائی میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں نہ تو دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے احترام کی گنجائش باقی رہی ہے اور نہ ہی اپنے اتحادیوں کی خدمات کی کوئی قدر کی جا رہی ہے۔
اتحادیوں اور کارکنوں سے بے اعتنائی
حالیہ واقعات میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی کے مشکل ترین وقت میں سب کچھ قربان کر دیا، مگر پارٹی کی تمام تر توجہ اور بیانیہ صرف عمران خان کی ذات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اس رویے نے یہ تاثر پختہ کر دیا ہے کہ پارٹی کو نہ تو اپنے اتحادی رہنماؤں کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ ان کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی فکر کر رہی ہے جنہوں نے جماعت کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
صاحبزادہ حامد رضا کا جیل میں کل ملاقات کا دن ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا کے اتحادیوں میں کوئی رہنما ان سے ملاقات کے لیے پہنچا۔ ؟ صاحبزادہ حامد رضا کو جیل میں 111 دن سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ کیا کسی کا ملاقات کا فوٹو آپ کے پاس ہو تو ضرور شیئر کیجئے گا۔
— Sahibzada Hamid Raza (@_SahibzadaHamid) February 20, 2026
شخصی ‘کلٹ’ کا تاثر
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کا مجموعی مزاج اب ایک روایتی سیاسی جماعت کے بجائے ایک مخصوص ‘کلٹ’ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں تنظیمی نظم و ضبط اور نظریاتی وابستگی کے بجائے صرف ایک فردِ واحد کی خوشنودی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کیا یہ امر ثابت کرنے کے لیے مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہے کہ پارٹی کی پوری مشینری صرف عمران خان کے مفادات کے تحفظ کے لیے مخصوص ہو چکی ہے؟
اخلاقیات کا فقدان
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف اپنے اندرونی حلقوں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی جمہوری احترام کے تقاضے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ کارکنوں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے تحفظ سے لاپروائی نے پارٹی کے اندر بھی دبے لفظوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب کسی جماعت میں مخلص ساتھیوں کی قربانیوں کی جگہ شخصی ستائش لے لے تو وہ سیاسی عمل کے بجائے کسی مخصوص گروہی مفاد کی نذر ہو جاتی ہے۔