بھارتی فوج کے اندر سنگین اخلاقی، ادارہ جاتی زوال اور قیادت کے منظم جرائم کے خلاف شدید تقسیم اور مایوسی کی لہر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ سرکاری ٹی وی پی ٹی وی نیوز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے نوجوانوں کے حالیہ بڑے احتجاجی مظاہرے میں ایک بھارتی فوجی افسر نے بھی شرکت کی ہے، جس نے بھارتی فوج کے سیاسی کردار کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
فوجی قیادت پر الزامات
رپورٹ کے مطابق احتجاج میں شریک بھارتی فوجی افسر کے بیان نے نئی دہلی کے مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ فوجی افسر نے الزام عائد کیا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے اپنی ناامید سیاسی مہم جوئی اور اہداف کے حصول کے لیے پیشہ ورانہ ساکھ سے محروم بھارتی فوج کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
بزدل بھارتی عسکری قیادت کے منظم جرائم ، اخلاقی اورادارہ جاتی پستی کیخلاف بھارتی فوجی اہلکار احتجاج کرنے پر مجبور۔۔۔بھارتی نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شریک بھارتی فوجی اہلکار نےسیاست زدہ بھارتی فوج کی قلعی کھول دی ۔۔۔غیر مقبول مودی نے سیاسی مقاصد کے حصول… pic.twitter.com/47p3myYRFf
— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 8, 2026
انہوں نے موجودہ فوجی قیادت کو بزدلانہ اور کرپٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج اب عوامی حقوق کے تحفظ کے بجائے صرف سیاسی آقاؤں کے مفادات کی نگران بن چکی ہے۔
فوج میں اندرونی پھوٹ
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران فوجی افسر کا یہ کھلم کھلا اور جرات مندانہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوتوا نظریات کے زیرِ اثر چلنے والی بھارتی فوج اس وقت شدید اندرونی پھوٹ اور فکری تقسیم کا شکار ہو چکی ہے۔
سینیئر فوجی اہلکاروں کا یوں سڑکوں پر جاری عوامی اور نوجوانوں کی تحریکوں کا حصہ بننا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادارے کے اندر نظم و ضبط مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور ماتحت عملہ اپنی ہی کرپٹ قیادت کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہے۔
دیکھیے: نئی دہلی: بیروزگاری کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کا پہلا بڑا حکومت مخالف احتجاج