اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا صدارتی بیان منظور

پاکستان کی کوششوں سے سلامتی کونسل نے جنگ کے دوران سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت میں صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
پاکستان کی سفارتی کوشش کامیاب، سلامتی کونسل کا اہم بیان منظور

پاکستان کی پیش کردہ قرارداد پر سلامتی کونسل نے جنگ کے دوران سفارت کاری کی حمایت کردی۔ اسحاق ڈار نے اسے کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا۔

November 6, 2026

پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فعال جنگی صورتحال کے دوران سفارت کاری اور مذاکرات کی اہمیت سے متعلق صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے۔

پاکستان نے 5 نومبر کو یہ اقدام شروع کیا تھا۔ منظور شدہ بیان کو دستاویز نمبر ایس/پی آر ایس ٹی/2026/5 کے تحت جاری کیا جائے گا۔

پاکستان کا مؤقف

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور ہونے والا بیان اس اصول پر زور دیتا ہے کہ جنگ اور کشیدگی کے دوران بھی سفارتی رابطے جاری رہنے چاہییں۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس پیش رفت کو سفارت کاری کی اہمیت کا اعتراف قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب جنگی کارروائیاں شدت اختیار کرتی ہیں تو سفارت کاری پیچھے نہیں ہٹنی چاہیے بلکہ کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور امن کے لیے اسے مزید مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ بیان سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے۔

علاقائی رہنماؤں سے رابطے

اسحاق ڈار نے 5 نومبر کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ٹیلی فون پر رابطے کیے۔

ان گفتگوؤں میں علاقائی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس کے علاوہ برطانیہ کے سکیورٹی وزیر ڈین جاروس نے بھی اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون، نقل مکانی اور تجارت سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

امن اور خودمختاری پر مؤقف

صدر آصف علی زرداری نے یوم شہدائے جموں کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان کسی نئے تنازع کے نتائج پورے خطے کے لیے سنگین ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دوسری جانب چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایس ایس جی تربیلا کے دورے کے دوران تربیت، مقامی دفاعی صلاحیت اور آپریشنل تیاری کو اہم قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

پشاور کے علاقے حیات آباد میں مسلح افراد نے نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقتول رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھانجے تھے۔

November 6, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی، ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔

November 6, 2026

پاکپتن کی دیپالپور روڈ پر بس اور ٹریلر کے تصادم میں 11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے، 6 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *