لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

مولانا فضل الرحمان سے سوالات: سیاسی و دینی خدمات زیرِ بحث

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طویل سیاسی زندگی، علمی تصانیف اور قومی کردار سے متعلق مختلف اہم سوالات سامنے آ گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کی دہائیوں پر محیط سیاسی و دینی خدمات پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے علمی کام اور سیاسی اثرا لنگار کا جائزہ۔

مولانا فضل الرحمان کی دہائیوں پر محیط سیاسی و دینی خدمات پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے علمی کام اور سیاسی اثرا لنگار کا جائزہ۔

July 30, 2026

پاکستان کی سیاسی اور دینی فضا میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک بحث نے جنم لیا ہے، جہاں عوامی اور تجزیاتی حلقوں کی جانب سے ان کی طویل سیاسی و دینی خدمات کے حوالے سے چند اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

عوام اور سیاسی مبصرین کی جانب سے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی دہائیوں پر محیط طویل سیاسی زندگی میں ملک و قوم کے لیے کون سا ایسا تاریخ ساز اور دیرپا کارنامہ انجام دیا ہے جسے قومی سطح پر یاد رکھا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ، بحیثیت ایک نامور دینی رہنما، ان کی علمی اور تحقیقی کاوشوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا انھوں نے حدیث، سنتِ نبوی ﷺ یا فقہی مسائل پر کوئی ایسی مستند اور تحقیقی تصنیف پیش کی ہے جو دینی و علمی حلقوں میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہو۔

بحث کا ایک اہم رخ یہ بھی ہے کہ کیا ان کی شناخت بنیادی طور پر ایک محقق اور دینی عالم کی ہے یا محض ایک سیاست دان کی، اور ان کی سیاست کا حاصل قوم کی حقیقی خدمت رہا ہے یا اقتدار کے ایوانوں تک رسائی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی جدوجہد نے ملکی اتحاد کو تقویت دی یا سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کیا۔

یہ سوالات اس نقطۂ نظر کے ساتھ ختم ہوتے ہیں کہ کسی بھی رہنما کا قومی کردار، علمی خدمات اور اصولی سیاست ہی اس کی قیادت کا معیار ہوتی ہے، جس کے پیشِ نظر قوم کو ہر عوامی رہنما کی خدمات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کا پورا حق حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *