کراچی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا ایک معاملہ جس میں شکارپور کے مرحوم ڈاکٹر وجی کمار کی بیٹی چاندنی کماری کو زمین پر مبینہ قبضے کے خلاف احتجاج کرتے دکھایا گیا، اب ایک مختلف رخ اختیار کر چکا ہے۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو ایک مظلوم لڑکی کی کہانی کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل بھی شامل تھی۔ تاہم، زمینی حقائق اور مزید تحقیق سے معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور نجی نوعیت کا ثابت ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ کراچی کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں متعلقہ خاتون نے ایک پلاٹ پر عارضی طور پر قبضہ کرتے ہوئے ایک کیفے قائم کیا۔ قانونی دستاویزات اور مقامی انتظامیہ کی معلومات کے مطابق یہ کیفے باقاعدہ اجازت یا لیز کے بغیر قائم کیا گیا تھا، جسے غیر قانونی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔
جناب صدر ! یہ بچی آصفہ بھی ہو سکتی تھی۔ اس کا مسئلہ آصفہ سمجھ کر حل کیجیے اور زمینوں پر قبضے ختم کرانے کو یقینی بنائیے ۔ آپ یہ سب کرسکتے ہیں @AAliZardari https://t.co/ERLapbKIko
— Azaz Syed (@AzazSyed) March 19, 2026
اسی مقام پر بعد ازاں ایک اور نوجوان نے بھی اسی طرز پر ایک دوسرا کیفے قائم کر لیا، جو بظاہر پہلے سے موجود غیر قانونی سیٹ اپ سے متاثر ہو کر بنایا گیا۔ وقت کے ساتھ دونوں فریقین کے درمیان کاروباری مفادات اور جگہ کے استعمال پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جو تلخ کلامی اور جھگڑے تک جا پہنچا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں چاندنی کماری کی بہن کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا گیا، جسے ایک بڑے زمین پر قبضے کے کیس کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم، دستیاب شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ معاملہ دراصل دو غیر قانونی سیٹ اپس کے درمیان نجی جھگڑا تھا، نہ کہ کسی منظم مافیا کی جانب سے زمین پر قبضے کا واضح کیس۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں زمینوں پر قبضے کے حقیقی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ہر واقعے کو بغیر تصدیق اسی تناظر میں پیش کرنا نہ صرف حقائق کو مسخ کرتا ہے بلکہ اصل متاثرین کے کیسز کو بھی کمزور کرتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سینئر صحافی اعزاز سید کا سوشل میڈیا پر کیا گیا ٹویٹ بھی شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایک تجربہ کار اور خود کو تحقیقاتی صحافی کہنے والے فرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے قبل اس کی مکمل تصدیق کرے، خاص طور پر جب معاملہ عوامی جذبات سے جڑا ہو۔
اعزاز سید کا ٹویٹ نہ صرف جذباتی اپیل پر مبنی تھا بلکہ اس میں معاملے کو یکطرفہ انداز میں پیش کیا گیا، جس سے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل پایا۔ صحافتی اصولوں کے مطابق کسی بھی واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانا ضروری ہوتا ہے، مگر اس کیس میں بنیادی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز تاثر پیدا کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ نہ صرف عوام کو گمراہ کرتی ہے بلکہ صحافت کے وقار کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں جہاں ہر خبر تیزی سے پھیلتی ہے، وہاں ذمہ داری بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ وائرل ہونے والی ہر کہانی مکمل سچ نہیں ہوتی، اور صحافتی دیانت داری کا تقاضا ہے کہ حقائق کو جذبات پر ترجیح دی جائے۔
دیکھئیے:سیکیورٹی آپریشن پر طنزیہ تبصرہ، سوشل میڈیا پر وجاہت خان شدید تنقید کی زد میں