پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حالیہ دنوں میں داخلی سیاسی معاملات کو عالمی فورمز پر اٹھانے کے عمل نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی جانب سے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف آواز اٹھائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے کئی حلقے ملک کے معاشی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس، جو یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو 2014 میں دیا گیا تھا، کے باعث ملکی برآمدات خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر میں نمایاں اضافہ ہوا اور اسے 2027 تک توسیع بھی دی جا چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس اسٹیٹس کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی برآمدات، روزگار اور مجموعی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے ایسے اقدامات، جن سے بین الاقوامی تجارتی یا مالیاتی سہولتوں پر اثر پڑے، ملک کے وسیع تر مفاد کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔
ماضی میں بھی پی ٹی آئی کی جانب سے عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، کو پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق خطوط اور دستاویزات بھیجنے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جس پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ داخلی سیاسی تنازعات کو عالمی سطح پر لے جایا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے معاشی استحکام اور سفارتی توازن انتہائی اہم ہیں، اور کسی بھی سیاسی حکمت عملی میں ان عوامل کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنیوا میں ہونے والی حالیہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا داخلی سیاسی جدوجہد کو عالمی دباؤ کے ذریعے آگے بڑھانا ایک مؤثر حکمت عملی ہے یا یہ ملک کے وسیع تر مفاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔