سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے 82 ٹھکانے تباہ کر دیے، جبکہ یمنی فورسز نے 1860 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 8, 2026

سعودی عرب کی درخواست پر شام کا یمن میں فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور، حوثیوں کے خلاف کارروائی میں مدد کی تجویز زیر غور ہے۔

October 8, 2026

پشاور ہائیکورٹ نے لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے مبینہ استعمال پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا ہے۔

October 8, 2026

معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے، ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

October 8, 2026

اکتوبر 2005 کی وہ صبح 21 برس بعد بھی ختم نہیں ہوئی۔ مظفرآباد، بالاکوٹ اور باغ کی گلیوں میں آج بھی کوئی ماں کسی تصویر کو دیکھ کر خاموش ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس دکھ سے کیا سیکھا؟

October 8, 2026

امن کی نئی راہ: فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی عالمی لہر

اس لہر کی مخالفت بھی کمزور نہیں۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست صرف براہِ راست مذاکرات کے ذریعے قائم ہو سکتی ہے۔
امن کی نئی راہ: فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی عالمی لہر

یہ پیش رفت پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ عرب ممالک، حتیٰ کہ وہ جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، بھی امن عمل کی سست رفتاری پر مایوس ہیں۔

September 25, 2025

بین الاقوامی برادری کا اسرائیل-فلسطین تنازعے کے حوالے سے رویہ تیزی سے اور ایک علامتی انداز میں بدل رہا ہے۔ آئرلینڈ، ناروے، آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، بیلجیئم اور اسپین جیسے ممالک کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ طور پر آزاد ریاست تسلیم کرنا محض سفارتی جملہ بازی نہیں، بلکہ یہ دہائیوں پرانی ناکام پالیسی کے خلاف ایک بھرپور احتجاج ہے جو انصاف پر مبنی امن فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس نئی لہر نے واضح کر دیا ہے کہ روایتی “دو ریاستی حل” اب محض ایک کھوکھلا نعرہ بنتا جا رہا ہے۔

مذاکراتی عمل سے یکطرفہ تسلیم تک

مغربی ممالک ہمیشہ اس مؤقف کے حامل رہے کہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنا ایک کامیاب مذاکراتی عمل کے بعد کا انعام ہونا چاہیے۔ لیکن یہ مؤقف اسرائیلی بستیوں کی توسیع، مسلسل قبضے اور غزہ میں انسانی المیے کے بعد کمزور ہو گیا ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا، پرتگال اور برطانیہ کے اعلانات، اور بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، انڈورا اور سان مارینو کی شمولیت اس بات کا اظہار ہے کہ اب انتظار کرنا بے سود ہے۔

اخلاقی دباؤ اور نئی نسل کی سوچ

اس سفارتی “ڈومینو ایفیکٹ” کے پیچھے اخلاقی محرکات، داخلی سیاست اور بدلتی جغرافیائی حقیقتیں کارفرما ہیں۔ غزہ میں جاری تباہی کے مناظر نے غیر تسلیم کی پالیسی کو اخلاقی طور پر مشکوک بنا دیا ہے۔ آئرلینڈ کے وزیرِاعظم سائمن ہیریس کے الفاظ میں: “یہ امید کو زندہ رکھنے کا معاملہ ہے۔” یہ مؤقف بالخصوص نوجوان نسل میں گونج رہا ہے جو پرانے سفارتی فارمولوں سے تھک چکی ہے۔

امریکہ اور بڑی طاقتوں کی مزاحمت

اس لہر کی مخالفت بھی کمزور نہیں۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست صرف براہِ راست مذاکرات کے ذریعے قائم ہو سکتی ہے۔ وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ یکطرفہ تسلیم دراصل مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ جرمنی اور اٹلی بھی اسی سوچ کے حامل ہیں کہ تسلیم کرنے کا عمل ایک حتمی اور ناقابلِ واپسی قدم ہونا چاہیے، جو صرف مکمل سیاسی تصفیے کے بعد ممکن ہے۔

خطے پر اثرات

یہ پیش رفت پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ عرب ممالک، حتیٰ کہ وہ جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، بھی امن عمل کی سست رفتاری پر مایوس ہیں۔ یورپی ممالک کا یہ قدم خطے کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ موجودہ صورتِ حال ناقابلِ قبول ہے اور اسے جاری نہیں رکھا جا سکتا۔

حقیقت اور امکانات

یقیناً تسلیم کرنا کوئی جادوئی چھڑی نہیں۔ یہ نہ قبضہ ختم کرے گا اور نہ ہی فوری طور پر امن لے آئے گا۔ ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے لیے سرحدیں، متحدہ حکومت اور مستحکم معیشت بھی ضروری ہیں۔ تاہم، اس نئی لہر نے عالمی سفارت کاری کا منظرنامہ بدل دیا ہے۔ اس نے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر عالمی ایجنڈے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے اور اسرائیل و اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو سنجیدگی سے تسلیم کریں۔

آخرکار، یہ اقدام بتاتا ہے کہ امن اب کوئی دور کی چیز نہیں بلکہ ایک عملی ہدف ہے—بس عالمی برادری کو مستقل اور جرات مندانہ اقدامات جاری رکھنے ہوں گے۔

دیکھیں: آزاد ریاست کا قیام فلسطینیوں کا حق ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

متعلقہ مضامین

سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے 82 ٹھکانے تباہ کر دیے، جبکہ یمنی فورسز نے 1860 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 8, 2026

سعودی عرب کی درخواست پر شام کا یمن میں فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور، حوثیوں کے خلاف کارروائی میں مدد کی تجویز زیر غور ہے۔

October 8, 2026

پشاور ہائیکورٹ نے لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے مبینہ استعمال پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا ہے۔

October 8, 2026

معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے، ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

October 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *