آزاد کشمیر میں اشیا کی قلت سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ جھوٹی نکلی؛ انٹرویو دینے والے شخص نے اعتراف کیا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف بیان دینے کے لیے بی بی سی نے پیسے دیے تھے۔

June 27, 2026

بنوں کے علاقے بکاخیل میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب ڈرون کاروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک اور بارود سے بھری گاڑی تباہ کر دی۔

June 27, 2026

وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 920 ہو گئی ہے جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں؛ امریکی جیولوجیکل سروے نے اموات 10 ہزار سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

June 27, 2026

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں تاحکمِ ثانی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے؛ گزشتہ ہفتے پٹرول 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔

June 27, 2026

خلیج تعاون کونسل اور امریکا کے مشترکہ اجلاس میں امریکا اور ایران کے مابین حالیہ سفارتی پیش رفت اور مفاہمت میں پاکستان اور قطر کے کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے۔

June 26, 2026

جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور خلیجی اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے پر پابندی کا انتباہ دیا ہے۔

June 26, 2026

امن کی نئی راہ: فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی عالمی لہر

اس لہر کی مخالفت بھی کمزور نہیں۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست صرف براہِ راست مذاکرات کے ذریعے قائم ہو سکتی ہے۔
امن کی نئی راہ: فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی عالمی لہر

یہ پیش رفت پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ عرب ممالک، حتیٰ کہ وہ جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، بھی امن عمل کی سست رفتاری پر مایوس ہیں۔

September 25, 2025

بین الاقوامی برادری کا اسرائیل-فلسطین تنازعے کے حوالے سے رویہ تیزی سے اور ایک علامتی انداز میں بدل رہا ہے۔ آئرلینڈ، ناروے، آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، بیلجیئم اور اسپین جیسے ممالک کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ طور پر آزاد ریاست تسلیم کرنا محض سفارتی جملہ بازی نہیں، بلکہ یہ دہائیوں پرانی ناکام پالیسی کے خلاف ایک بھرپور احتجاج ہے جو انصاف پر مبنی امن فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس نئی لہر نے واضح کر دیا ہے کہ روایتی “دو ریاستی حل” اب محض ایک کھوکھلا نعرہ بنتا جا رہا ہے۔

مذاکراتی عمل سے یکطرفہ تسلیم تک

مغربی ممالک ہمیشہ اس مؤقف کے حامل رہے کہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنا ایک کامیاب مذاکراتی عمل کے بعد کا انعام ہونا چاہیے۔ لیکن یہ مؤقف اسرائیلی بستیوں کی توسیع، مسلسل قبضے اور غزہ میں انسانی المیے کے بعد کمزور ہو گیا ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا، پرتگال اور برطانیہ کے اعلانات، اور بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، انڈورا اور سان مارینو کی شمولیت اس بات کا اظہار ہے کہ اب انتظار کرنا بے سود ہے۔

اخلاقی دباؤ اور نئی نسل کی سوچ

اس سفارتی “ڈومینو ایفیکٹ” کے پیچھے اخلاقی محرکات، داخلی سیاست اور بدلتی جغرافیائی حقیقتیں کارفرما ہیں۔ غزہ میں جاری تباہی کے مناظر نے غیر تسلیم کی پالیسی کو اخلاقی طور پر مشکوک بنا دیا ہے۔ آئرلینڈ کے وزیرِاعظم سائمن ہیریس کے الفاظ میں: “یہ امید کو زندہ رکھنے کا معاملہ ہے۔” یہ مؤقف بالخصوص نوجوان نسل میں گونج رہا ہے جو پرانے سفارتی فارمولوں سے تھک چکی ہے۔

امریکہ اور بڑی طاقتوں کی مزاحمت

اس لہر کی مخالفت بھی کمزور نہیں۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست صرف براہِ راست مذاکرات کے ذریعے قائم ہو سکتی ہے۔ وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ یکطرفہ تسلیم دراصل مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ جرمنی اور اٹلی بھی اسی سوچ کے حامل ہیں کہ تسلیم کرنے کا عمل ایک حتمی اور ناقابلِ واپسی قدم ہونا چاہیے، جو صرف مکمل سیاسی تصفیے کے بعد ممکن ہے۔

خطے پر اثرات

یہ پیش رفت پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ عرب ممالک، حتیٰ کہ وہ جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، بھی امن عمل کی سست رفتاری پر مایوس ہیں۔ یورپی ممالک کا یہ قدم خطے کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ موجودہ صورتِ حال ناقابلِ قبول ہے اور اسے جاری نہیں رکھا جا سکتا۔

حقیقت اور امکانات

یقیناً تسلیم کرنا کوئی جادوئی چھڑی نہیں۔ یہ نہ قبضہ ختم کرے گا اور نہ ہی فوری طور پر امن لے آئے گا۔ ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے لیے سرحدیں، متحدہ حکومت اور مستحکم معیشت بھی ضروری ہیں۔ تاہم، اس نئی لہر نے عالمی سفارت کاری کا منظرنامہ بدل دیا ہے۔ اس نے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر عالمی ایجنڈے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے اور اسرائیل و اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو سنجیدگی سے تسلیم کریں۔

آخرکار، یہ اقدام بتاتا ہے کہ امن اب کوئی دور کی چیز نہیں بلکہ ایک عملی ہدف ہے—بس عالمی برادری کو مستقل اور جرات مندانہ اقدامات جاری رکھنے ہوں گے۔

دیکھیں: آزاد ریاست کا قیام فلسطینیوں کا حق ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

متعلقہ مضامین

آزاد کشمیر میں اشیا کی قلت سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ جھوٹی نکلی؛ انٹرویو دینے والے شخص نے اعتراف کیا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف بیان دینے کے لیے بی بی سی نے پیسے دیے تھے۔

June 27, 2026

بنوں کے علاقے بکاخیل میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب ڈرون کاروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک اور بارود سے بھری گاڑی تباہ کر دی۔

June 27, 2026

وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 920 ہو گئی ہے جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں؛ امریکی جیولوجیکل سروے نے اموات 10 ہزار سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

June 27, 2026

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں تاحکمِ ثانی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے؛ گزشتہ ہفتے پٹرول 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔

June 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *