روس نے افغانستان سے لاحق سکیورٹی خدشات کے مقابلے کے لیے تاجکستان کی بارڈر سروس کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کرنا شروع کر دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے شعبہ سی آئی ایس کے ڈائریکٹر الیگزینڈر سٹرنک کے مطابق یہ اقدام پانچ سالہ سی ایس ٹی او پروگرام کے تحت کیا جا رہا ہے۔ یہ دفاعی منصوبہ نومبر 2024 میں منظور کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد تاجکستان کی سرحدی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
علاقائی سلامتی کے خدشات روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کے مطابق روسی سلامتی کونسل کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں اس وقت بیس سے زائد تنظیموں کے 18 ہزار سے 23 ہزار جنگجو موجود ہیں۔ خطے کے ممالک کا ماننا ہے کہ سرحد پار دراندازی کا خطرہ تاحال برقرار ہے۔
یاد رہے کہ روس نے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا تھا، تاہم سکیورٹی تحفظات بدستور موجود ہیں۔
مشترکہ دفاعی مشقیں ممکنہ دراندازی کے پیشِ نظر اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم (سی ایس ٹی او) نے قازقستان میں فرنٹیئر 2026 کے عنوان سے مشترکہ مشقیں بھی منعقد کیں۔ ان مشقوں میں افغانستان کی سمت سے آنے والے سکیورٹی خطرات اور مسلح افراد کی پیش قدمی روکنے کے مختلف پہلوؤں کی مشق کی گئی۔ خطے کے عسکری حلقوں کے مطابق ان مشقوں کا مقصد رکن ممالک کے سرحدی دفاع میں باہمی ربط کو بہتر بنانا ہے۔
سرحد پار حملوں کے اثرات رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 کے دوران سرحد پار ہونے والے حملوں میں پانچ چینی شہری اور تاجکستان کے دو محافظ بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے بھی افغان سرزمین سے ہونے والے سرحد پار حملوں پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
مبینہ پناہ گاہوں کے دعوے علاقائی ممالک اور مبصرین کے ایک بیانیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان شدت پسند عناصر کے مکمل خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف تنظیموں کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی گنجائش مل رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اسی تناظر میں خطے کے ہمسایہ ممالک کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
دیکھیے: ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پراپیگنڈا قرار؛ دہشت گردوں کو شہری ظاہر کرنے کے دعوؤں پر تنقید