وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پولیس افسران کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے اچھے پولیس افسران کی فراہمی کے لیے کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں ایسے افسران بھیجے گئے جن میں ایک خاتون کی عمر 58 سال تھی، جبکہ دوسرا افسر آنکھوں سے معذور تھا۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تشکیل نسلی بنیادوں پر کرنے کے بجائے انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنائے جانے چاہییں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس افسران کی تعیناتی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے حکومت کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ انہیں اچھے پولیس افسران فراہم کیے جائیں۔ تاہم، ان کے بقول، انہیں دو ایسے افسران بھیجے گئے جن میں ایک 58 سالہ خاتون تھیں اور دوسرے افسر نابینا تھے۔
سرفراز بگٹی کے اس بیان میں بلوچستان میں پولیس افسران کی دستیابی اور موزوں تعیناتی سے متعلق ان کی شکایت سامنے آئی ہے۔ تاہم، اس معاملے پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں خبر کو مزید بہتر طور پر مکمل کیا جا سکتا ہے۔
انتظامی تقسیم کے حوالے سے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل بہت ضروری ہے۔ ان کے مطابق صوبوں یا علاقوں کی تشکیل نسلی شناخت کو بنیاد بنانے کے بجائے انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔
ان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبائی انتظامی ڈھانچے، حکومتی کارکردگی اور عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی سے متعلق معاملات اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، نئے انتظامی یونٹس کی مجوزہ تعداد، حدود اور تشکیل کے طریقۂ کار کے بارے میں مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔





