وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بارڈر ٹاکس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے تشدد کو اکثر پسماندگی، غربت، بے روزگاری اور سرحدی اسمگلنگ جیسے عوامل سے جوڑ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے پورے ملک میں اس کی اصل نوعیت کے بارے میں ابہام پیدا ہوتا ہے، حالانکہ اس تشدد کا مذہب یا محرومیوں سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے یا کوئی بھی دیگر دہشت گرد تنظیم ہو، ان تمام عناصر کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور ان کا واحد مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو تسلیم کرتی ہے، مگر اس کے باوجود افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت دے رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے محبِ وطن پشتون نوجوانوں اور بلوچستان کے تمام عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کو ریاست سے ہرگز منسوب نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بلوچستان میں تشدد کو پسماندگی کا بیانیہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے، بعینہٖ وہی بیانیہ اب ٹی ٹی پی کے حوالے سے بھی گھڑا جا رہا ہے، حالانکہ پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ نور ولی محسود کہاں بیٹھ کر کارروائیاں چلاتا ہے اور کس طرح افغان سرحد عبور کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شورش سے نمٹنے کے لیے کسی غیر معمولی یا نئے فارمولے کی ضرورت نہیں بلکہ بلوچستان میں معاشی ترقی، سیکیورٹی کارروائیاں اور سیاسی مکالمہ بیک وقت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات، میرٹ کے قیام، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بدعنوانی کے قلع قمع اور کمیشن مافیا کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہو گا۔