ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے ایک حالیہ اور انتہائی اہم تحقیقی مطالعے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف طویل ترین جنگ دراصل کوئی سطحی عسکری تنازع نہیں، بلکہ یہ ‘خارجیت’ کے انتہا پسند مائنڈ سیٹ کے خلاف ایک گہرا نظریاتی معرکہ ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ عسکری میدان میں حاصل ہونے والی غیر معمولی کامیابیوں کے باوجود تشدد کے بار بار ابھرنے کی بنیادی وجہ وہ فکری سانچہ ہے جو اندرونی طور پر ان تنظیموں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) جیسے بھیانک کارروائیوں میں ملوث شدت پسند گروہ کسی وقتی نظریے کے تحت کام نہیں کر رہے، بلکہ یہ اسی قدیم انتہا پسند نظریاتی سانچے سے مسلسل توانائی حاصل کر رہے ہیں جس کی جڑیں تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور کے ‘خوارج’ سے جا ملتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ دور کے یہ دہشت گرد گروہ اپنے نظریات، تکفیری بیانیے اور مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کے اصولوں میں تاریخی خوارج کا ہی تسلسل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹائمز نے اپنی ریسرچ میں اس نکتے پر خصوصی توجہ مبذول کرائی ہے کہ دہشت گردی بذاتِ خود صرف ایک بیرونی نتیجہ ہے، جبکہ اس کی اصل جڑ وہ ‘خارجیت’ کا مائنڈ سیٹ ہے جو پسِ پردہ رہ کر اسے مسلسل جنم دیتا رہتا ہے۔
رپورٹ کے الفاظ میں، مسلح افواج کے کامیاب ملٹری آپریشنز دہشت گردوں کے مادی ٹھکانوں، لاجسٹک نیٹ ورکس اور صفِ اول کے کمانڈرز کو تو مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں اور انہوں نے ایسا کیا بھی ہے، لیکن اگر ان کے اس مائنڈ سیٹ کے پیچھے کارفرما بنیادی نظریہ معاشرے یا خطے میں کسی بھی سطح پر زندہ رہے، تو تشدد کا یہ لامتناہی سلسلہ وقت گزرنے کے ساتھ نئے ناموں، نئے چہروں اور نئے پلیٹ فارمز سے دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔
رپورٹ کے اختتامی حصے میں دفاعی اور فکری ماہرین کے حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ناسور پر مستقل اور حتمی قابو پانے کے لیے اب صرف میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دینا کافی نہیں رہا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عسکری کامیابیوں کو پائیدار بنانے کے لیے ریاستی اور علمی سطح پر ان تمام فکری اور نظریاتی بنیادوں کا مکمل ابطال کیا جائے جو اس وحشیانہ تشدد کو مذہبی یا سیاسی جواز فراہم کرتی ہیں۔ جب تک اس نظریاتی ایندھن کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جاتا، تب تک خطے میں پائیدار اور طویل المیعاد امن کا خواب ادھورا رہے گا۔