قومی مزاحمتی محاذ کا دعویٰ، بدخشاں کے کران و منجان میں طالبان چوکی پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی۔

July 27, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں عسکری ذخائر کی کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

July 27, 2026

تربت پریس کلب میں مبینہ دہشت گرد عثمان کی والدہ کا بیٹے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان، خاندان کا اس کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہ ہونے کا دعویٰ۔

July 27, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف حملے منظم مزاحمت میں بدل چکے ہیں، جہاں بڑھتا عوامی غصہ کابل کی عملداری کو چیلنج کر رہا ہے۔

July 27, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ کا دعویٰ، طالبان زیبک میں اپنی چوکیوں کے اطراف بارودی سرنگیں بچھا کر مورچے خالی کرنے کی تیاری میں، جمعرات سے جاری جھڑپوں میں بھاری نقصان۔

July 27, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ نے بدخشاں کے ضلع زیبک میں پیش قدمی اور طالبان کی چیک پوسٹوں پر قبضے کا دعویٰ کرتے ہوئے ویڈیوز جاری کر دی ہیں۔

July 27, 2026

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نظریاتی محاذ پر کامیابی ناگزیر ہے، ساؤتھ ایشیا ٹائمز

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی اصل جڑ خارجیت’کا نظریہ ہے، جس کے مستقل خاتمے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ فکری ابطال ناگزیر ہے۔
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی اصل جڑ خارجیت'کا نظریہ ہے، جس کے مستقل خاتمے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ فکری ابطال ناگزیر ہے۔

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی نئی تحقیق کے مطابق ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی تاریخی خوارج کا فکری تسلسل ہیں؛ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اس انتہا پسند مائنڈ سیٹ کا خاتمہ ضروری ہے۔

June 6, 2026

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے ایک حالیہ اور انتہائی اہم تحقیقی مطالعے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف طویل ترین جنگ دراصل کوئی سطحی عسکری تنازع نہیں، بلکہ یہ ‘خارجیت’ کے انتہا پسند مائنڈ سیٹ کے خلاف ایک گہرا نظریاتی معرکہ ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ عسکری میدان میں حاصل ہونے والی غیر معمولی کامیابیوں کے باوجود تشدد کے بار بار ابھرنے کی بنیادی وجہ وہ فکری سانچہ ہے جو اندرونی طور پر ان تنظیموں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) جیسے بھیانک کارروائیوں میں ملوث شدت پسند گروہ کسی وقتی نظریے کے تحت کام نہیں کر رہے، بلکہ یہ اسی قدیم انتہا پسند نظریاتی سانچے سے مسلسل توانائی حاصل کر رہے ہیں جس کی جڑیں تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور کے ‘خوارج’ سے جا ملتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ دور کے یہ دہشت گرد گروہ اپنے نظریات، تکفیری بیانیے اور مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کے اصولوں میں تاریخی خوارج کا ہی تسلسل ہیں۔

ساؤتھ ایشیا ٹائمز نے اپنی ریسرچ میں اس نکتے پر خصوصی توجہ مبذول کرائی ہے کہ دہشت گردی بذاتِ خود صرف ایک بیرونی نتیجہ ہے، جبکہ اس کی اصل جڑ وہ ‘خارجیت’ کا مائنڈ سیٹ ہے جو پسِ پردہ رہ کر اسے مسلسل جنم دیتا رہتا ہے۔

رپورٹ کے الفاظ میں، مسلح افواج کے کامیاب ملٹری آپریشنز دہشت گردوں کے مادی ٹھکانوں، لاجسٹک نیٹ ورکس اور صفِ اول کے کمانڈرز کو تو مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں اور انہوں نے ایسا کیا بھی ہے، لیکن اگر ان کے اس مائنڈ سیٹ کے پیچھے کارفرما بنیادی نظریہ معاشرے یا خطے میں کسی بھی سطح پر زندہ رہے، تو تشدد کا یہ لامتناہی سلسلہ وقت گزرنے کے ساتھ نئے ناموں، نئے چہروں اور نئے پلیٹ فارمز سے دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔

رپورٹ کے اختتامی حصے میں دفاعی اور فکری ماہرین کے حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ناسور پر مستقل اور حتمی قابو پانے کے لیے اب صرف میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دینا کافی نہیں رہا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عسکری کامیابیوں کو پائیدار بنانے کے لیے ریاستی اور علمی سطح پر ان تمام فکری اور نظریاتی بنیادوں کا مکمل ابطال کیا جائے جو اس وحشیانہ تشدد کو مذہبی یا سیاسی جواز فراہم کرتی ہیں۔ جب تک اس نظریاتی ایندھن کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جاتا، تب تک خطے میں پائیدار اور طویل المیعاد امن کا خواب ادھورا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

قومی مزاحمتی محاذ کا دعویٰ، بدخشاں کے کران و منجان میں طالبان چوکی پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی۔

July 27, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں عسکری ذخائر کی کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

July 27, 2026

تربت پریس کلب میں مبینہ دہشت گرد عثمان کی والدہ کا بیٹے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان، خاندان کا اس کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہ ہونے کا دعویٰ۔

July 27, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف حملے منظم مزاحمت میں بدل چکے ہیں، جہاں بڑھتا عوامی غصہ کابل کی عملداری کو چیلنج کر رہا ہے۔

July 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *