افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ بدخشاں کے ضلع زیبک میں طالبان کے خلاف عسکری پیش قدمی کا دعویٰ کرتے ہوئے نئی ویڈیوز جاری کر دی ہیں۔ ان ویڈیوز میں فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں کو طالبان کی قائم کردہ چیک پوسٹوں پر قبضہ کرتے اور براہِ راست شدید جھڑپوں میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع زیبک میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کے درمیان مسلح تصادم چوتھے مسلسل روز میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ متعدد اہم علاقے اب بھی فریڈم فرنٹ کے کنٹرول میں ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شدید لڑائی کے بعد طالبان جنگجو اپنی پوزیشنز چھوڑ کر پسپائی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یہ نئی پیش رفت طالبان چیف آف اسٹاف قاری فصیح الدین کے اس حالیہ دعوے کی صریحاً نفی کرتی ہے جس میں انہوں نے خطے میں فریڈم فرنٹ کی موجودگی کو مسترد کیا تھا۔
تاہم میدانی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان فریڈم فرنٹ اور دیگر طالبان مخالف عسکری گروہوں نے اپنی آپریشنل کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ پرتشدد جھڑپوں کے دوران 15 سے زائد طالبان ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مخالف فورسز نے طالبان کے فوجی قافلوں پر راکٹ حملے کیے ہیں جبکہ ایک ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس سے علاقے میں عسکری کشیدگی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔