یمن کے حوثی باغیوں کے شدید حملوں کے بعد سعودی عرب میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حوثیوں نے ریاض کے ہوائی اڈے اور آرامکو کی ریفائنری سمیت کئی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں ڈرون اور میزائل حملوں کی بڑی لہر کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق تین فوجی کارروائیاں کی گئیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بتایا کہ حملوں میں ڈرونز، بیلسٹک اور کروز میزائل استعمال ہوئے۔
ترجمان کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور رابغ میں آرامکو کی ریفائنری نشانہ بنے۔ جنوبی سعودی عرب میں فوجی تنصیبات اور کئی چھوٹے ہوائی اڈے بھی ہدف تھے۔
ترجمان نے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا۔ نجران اور جازان کے مختلف مقامات بھی مبینہ طور پر نشانہ بنے۔ حوثی گروپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔
سعودی عرب میں ہائی الرٹ
سعودی حکام نے جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ان حملوں میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ محدود نقصان کی اطلاعات ہیں۔
ریاض ایئرپورٹ اور رابغ ریفائنری پر حملوں کے حوثی دعووں کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ حوثیوں نے مسافر پروازوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں رہیں۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے بحیرۂ احمر کے شہر حدیدہ میں حوثیوں کے ہتھیاروں کے گودام تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بارودی کشتیوں کی تنصیبات اور بحری بارودی سرنگوں کے ذخائر بھی نشانہ بنے۔
اتحاد کے مطابق تقریباً 100 جنگی طیاروں نے ان کارروائیوں میں حصہ لیا۔
یمنی فوج کی پیش قدمی
یمنی فوج نے حوثیوں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ فوج نے دارالحکومت صنعاء کی جانب پیش قدمی کا اعلان کیا ہے۔
یمنی حکومتی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ موخا پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے حوثی حملوں کے بعد اجتماعی دفاعی اقدامات فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پاکستان اور ترکیہ سعودی عرب کی مدد کے لیے فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں تعینات کریں گے۔
اجلاس میں دستوں کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات پر بھی اتفاق ہوا۔ تاہم ان فوجیوں کے مخصوص کردار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
تیل کے ذخائر پر دباؤ
حوثی حملوں سے سعودی عرب کا تیل کا بنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے۔ سعودی آرامکو کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث عالمی تیل کے ذخائر انتہائی کم ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی توانائی کا نظام شدید دباؤ میں ہے۔
باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہیں۔