سعودی عرب نے اپنی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد جوابی کارروائی کی ہے۔ سعودیہ نے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مکمل تعاون اور رابطے سے انجام دی گئی۔
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ مسلح افواج نے عراق میں ان اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ اہداف سعودی تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر سے منسلک تھے۔
چار مقامات پر حملے
عرب میڈیا کے مطابق سعودی رائل فضائیہ نے عراق میں چار مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان میں بصرہ، واسط، کربلا اور نینوی شامل ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیا مسلسل سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ اب انہیں جواب دیا جا رہا ہے۔
میجر جنرل المالکی کے مطابق یہ کارروائی قومی سلامتی، توانائی کے ڈھانچے اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور قومی تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وزارتِ خارجہ کی تصدیق
سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی کارروائی کی تصدیق کر دی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حقِ دفاعِ خود کے مطابق کیا گیا۔
بیان میں الزام لگایا گیا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق سے ڈرون حملے کر کے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اسی وجہ سے یہ محدود اور ہدفی کارروائی کی گئی۔
سعودی حکومت نے واضح کیا کہ مملکت خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہاں نہیں۔ تاہم اگر سلامتی، خودمختاری یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔