بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر مسلسل غیر اخلاقی اور حیا سوز مواد کی اشاعت کے خلاف معاشرے کے مختلف حلقوں اور علماء کرام میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں اور شہریوں کی جانب سے علماء کرام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بی بی سی کے اس نصاب کے خلاف منبر و محراب سے باقاعدہ آواز اٹھائیں اور قوم کی رہنمائی کریں۔
شہریوں اور مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ خبر رساں ادارے کی آڑ میں ویب سائٹ پر مسلسل ایسے موضوعات اور مواد کو فروغ دیا جا رہا ہے جو اسلامی اقدار، معاشرتی شرم و حیا اور مقامی روایات کے بالکل منافی ہیں۔
معاشرے کے سرکردہ طبقات نے اس امر پر زور دیا ہے کہ منبر و محراب کے ذریعے جمعہ کے خطبات میں عوام کو اس قسم کے آن لائن گمراہ کن اور نا زیبا مواد سے آگاہ کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اخلاقی بگاڑ سے بچایا جا سکے۔
پاکستان کے تمام شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے بی بی سی کی ویب سائٹ پر پاکستان میں فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تمام شہریوں کا مطالبہ ہے کہ آزادیِ صحافت کے نام پر کسی بھی بین الاقوامی ادارے کو مذہبی و اخلاقی حدود پامال کرنے اور بے حیائی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دیکھیے: کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ، افغان فریڈم فرنٹ نے ذمہ داری قبول کرلی