قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار چیک پوسٹس پر ڈیوٹی کے دوران عوامی سلامتی اور عوامی جذبات کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر کھڑے ہیں۔ حالیہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو ایک طرف سخت حفاظتی پروٹوکولز پر عمل درآمد کے باعث ملامت کا سامنا ہے، تو دوسری طرف معمولی سی نرمی ان کی جان کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جب اہلکار سخت تلاشی، محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے یا بیرونی لباس اتارنے جیسے اقدامات پر اصرار کرتے ہیں تو اسے اکثر معاشرے کے بعض حلقوں کی جانب سے تذلیل یا اختیارات سے تجاوز قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سوشل میڈیا بیانیے اکثر ان اہلکاروں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں جو دراصل ممکنہ خونریزی روکنے کی تگ و دو میں مصروف ہوتے ہیں۔
تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ انتہائی المناک ہے۔ حال ہی میں دجال چیک پوسٹ، بھکر میں پیش آنے والا واقعہ اس کی واضح مثال ہے، جہاں ایک خودکش حملہ آور نے سیکیورٹی میں موجود معمولی نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فاصلہ کم کیا اور قریب پہنچ کر دھماکا کر دیا۔ ایک خودکش بمبار کو اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے صرف ایک لمحے کی غفلت یا نرمی درکار ہوتی ہے، جبکہ ڈیوٹی پر موجود اہلکار کو ہر لمحہ درست اور فوری فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اگر اہلکار پیشہ ورانہ سختی برتیں تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اگر وہ شائستگی یا عوامی سہولت کی خاطر نرمی دکھائیں تو انہیں شہادت کا جام پینا پڑتا ہے۔ سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ چیک پوسٹس پر تعینات اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور ان سخت اقدامات کو اپنی ہی حفاظت کا ضامن سمجھیں، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قواعد و ضوابط کی سختی ہی دفاع کی پہلی اور آخری لکیر ہے۔