تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار ایک بار پھر اپنے متنازع بیانات اور سنسنی خیز دعوؤں کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہیں، جہاں سیاسی مبصرین انہیں سیاست دان کے بجائے ایک ‘افسانہ نگار’ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا سیاسی سفر حقائق کے بجائے بین الاقوامی سازشوں اور بے بنیاد مفروضوں کے گرد گھومتا ہے، جس میں ماضی کے ‘زہر دینے کے دعوے’ سے لے کر ‘عمان ایئر بیس’ کی کہانیاں محض عوامی توجہ اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئی ہیں۔
حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں عید میلادالنبی ﷺ جیسے مقدس موقع کو متنازع بنانے اور وادیٔ تیراہ کے حساس فوجی آپریشن کو امریکی ایئر بیس سے جوڑنے کی کوششوں نے قومی سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس سے یہ تاثر تقویت پا رہا ہے کہ سیاسی شہرت کی خاطر قومی مفادات کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بات صرف افسانہ نگاری تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ریاست کو براہِ راست للکارنے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 8 فروری کے انتخابات کے تناظر میں ان کا یہ جذباتی بیان کہ “اگر عمران خان رہا نہ ہوا تو بندوق اٹھاؤں گی”، سیاسی اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کر چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کو سزائیں ملک کی عدلیہ نے دی ہیں، جو ریاست کا ایک اہم ستون ہے۔ کسی سیاسی رہنماء کی رہائی کے لیے مسلح جدوجہد یا بندوق اٹھانے کی دھمکی کھلی ریاست کے خلاف بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔
تازہ ترین صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو گئی جب سینئر صحافی صالح ظفر کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران پوچھے گئے ایک سوال پر شاندانہ گلزار آپے سے باہر ہو گئیں اور مبینہ طور پر غلیظ زبان کا استعمال کیا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ “دال میں کچھ کالا ہے”۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شاندانہ گلزار کی اس غیر معمولی برہمی کے پیچھے کوئی گہرا راز چھپا ہے، اور شاید کوئی ‘فون کال لیک’ ہونے کو بے تاب ہے جو ان کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ “فلم ابھی باقی ہے” اور آنے والے دن اس حوالے سے مزید سنسنی خیز انکشافات کے حامل ہو سکتے ہیں۔
دیکھیے: عمران خان: انسانی حقوق کے نام پر سیاسی لابیز اور مبینہ بیانیہ سازی