مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچنے لگے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور ممکنہ توانائی بحران کے پیش نظر وفاقی حکومت اور بعض صوبائی حکومتوں نے اخراجات کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے متعدد ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
ان اقدامات میں تعلیمی اداروں کی عارضی بندش، دفاتر میں چار روزہ ورکنگ اور ورک فرام ہوم کی پالیسی شامل ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا چار روزہ ورکنگ ویک کا اعلان
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران میں جنگی صورتحال اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر اعلان کیا کہ سرکاری اور نجی اداروں میں ہفتے میں صرف چار دن کام ہو گا جبکہ پچاس فیصد عملہ گھر سے آن لائن کام کرے گا۔ اس فیصلے کا مقصد ایندھن کی بچت اور معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں اور آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد ایرانی شہریوں کی ہلاکت کی پاکستان بھرپور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چند دنوں میں 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی زراعت، صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے بڑی حد تک خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال میں مشکل معاشی فیصلے ناگزیر ہو گئے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
حکومت نے حالیہ دنوں میں عالمی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ بھی کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس سے زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی تھی، مگر عوام پر بوجھ کم رکھنے کے لیے کم سے کم اضافہ کیا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں مزید بڑھیں تو مستقبل میں مزید اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے، تاہم حکومت کوشش کرے گی کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
کفایت شعاری کے لیے حکومتی اقدامات
وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دو ماہ تک تمام سرکاری محکموں کی گاڑیوں میں پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں پچاس فیصد کمی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ وفاقی وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی دو ماہ تک تنخواہیں نہیں لیں گے جبکہ ارکانِ پارلیمان کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ گریڈ 20 سے اوپر کے ایسے سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے مختص کی جائے گی۔
مزید برآں سرکاری اداروں کے غیر ضروری اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ فرنیچر، ایئرکنڈیشنر اور دیگر اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزرا اور اعلیٰ حکام کے غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے اور صرف انتہائی ضروری سرکاری دوروں کی اجازت ہو گی۔
حکومت نے سرکاری اداروں میں ٹیلی کانفرنس اور آن لائن میٹنگز کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ سفر اور ایندھن کے اخراجات کم کیے جا سکیں۔
تعلیمی اداروں میں چھٹیاں اور آن لائن کلاسز
حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔
پنجاب حکومت نے بھی اسی تناظر میں اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر کے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی۔ تاہم امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے اور اداروں کو آن لائن کلاسز لینے کی اجازت ہو گی۔
پنجاب میں مزید کفایت شعاری اقدامات
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی توانائی بحران کے پیش نظر متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول کی فراہمی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور صرف سکیورٹی کے لیے ایک گاڑی رکھنے کی اجازت ہو گی۔ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کی پالیسی اپنائی جائے گی اور زیادہ تر اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ سرکاری تقریبات اور آؤٹ ڈور فنکشنز پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ ہارس اینڈ کیٹل شو جیسے ثقافتی پروگرام بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
بلوچستان میں بھی تعلیمی ادارے بند
بلوچستان حکومت نے بھی جنگی صورتحال اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے پیش نظر صوبے بھر کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو 23 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق سرکاری اور نجی دونوں تعلیمی اداروں پر ہو گا۔
تاہم حکام کے مطابق داخلہ مہم اور سکولوں کی ڈیجیٹل مردم شماری جاری رہے گی جبکہ امتحانات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل اور تنقید
حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے اس اقدام کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر بحران میں سب سے پہلے تعلیمی ادارے ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔
بعض صارفین کا کہنا تھا کہ اگر پورا ملک کھلا ہے اور کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں تو صرف سکولوں اور کالجوں کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ طلبہ پہلے ہی سموگ، سیلاب اور دیگر مسائل کی وجہ سے تعلیمی نقصان اٹھا چکے ہیں اور مزید تعطیلات ان کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہیں۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے حکومت کے اقدامات کو توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیا اور عوام سے کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل کی۔